تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 477

تھی کہ بچے بھی حیران رہ جاتے تھے۔رضاعی بھائی بیان کرتے ہیںکہ آپ لغو کھیلیں نہیںکھیلتے تھے۔مذاق کرلیتے تھے مگر جھوٹی باتوں سے سخت نفرت تھی اس زمانہ میں ایسی ہمدردی آپ کے اندرپائی جاتی تھی کہ چھوٹے بچے بھی آپ کو اپنا سردار سمجھتے تھے(تاریخ الخمس جلد ۱ زیر ذکر شق صدر صفحہ ۲۲۵) پھر جس قسم کا حسن سلوک آپ نے ابوطالب اور اپنی چچی سے کیا ہے اس کی نظیر سگے بیٹوں میںبھی نہیںملتی فتح مکہ کے بعد لوگوں نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ !آپ کس مکان میں ٹھہریںگے اس پرآپ نے بغیر کسی قسم کے غصہ کے فرمایا عقیل نے کوئی مکان باقی چھوڑاہے کہ اس میں ٹھہریں یعنی چچازاد بھائیوںنے سب مکان بیچ دیئے ہیں۔اب ہمارا کون سا مکان ہے جس میں ہم ٹھہریں۔پھر آپ نے نہ صرف باپ کی محبت کوابوطالب کے متعلق قائم رکھابلکہ دوسروں کو بھی تعلیم دی کہ ماں باپ کواف بھی نہ کہو(بخاری کتاب المغازی باب این رکز النبی الرایة یوم الفتح)۔اس کے بعد آپ جوان ہوئے لوگ اس عمر میںکیاکچھ نہیںکرتے۔عرب میں اس وقت کوئی قانون نہ تھا کوئی اخلاقی ضابطہ نہ تھا۔لوگ اس پر فخر کرتے تھے کہ ہمارا فلاں کی عورت یا لڑکی سے ناجائز تعلق ہے اس ماحول میںرہنے والے نوجوانوں سے کو ئی شخص بلند کردار کی توقع نہیں کر سکتامگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی گندی فضا کے باوجود جوانی میں ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ لوگ آپ کو امین اور صد وق کہتے تھے(سیرة النبی لابن ہشام جلد ۱ اختلاف قریش فی من یضع الحجر) یہ کہنا کہ آپ جھوٹ نہ بولتے تھے آپ کی ہتک ہے کیونکہ آپ صداقت کا یسا اعلیٰ نمونہ تھے کہ جس کی نظیر نہیںملتی۔اور صداقت کا مقام جھوٹ نہ بولنے سے اوپر ہے پس آپ کا یہی کمال نہیںکہ آپ جھوٹ نہیںبولتے تھے بلکہ آپ کاکمال یہ ہے کہ آپ صدوق کہلاتے تھے۔آپ کے کلام میںکسی قسم کا اخفاء اور پردہ دری یافریب نہ ہوتاتھا۔یہی وجہ تھی کہ آپ جوکچھ کہہ دیتے تھے لوگ اسے تسلیم کرلیتے آپ نے اہل مکہ سے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑالشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیاتم یقین کر لو گے۔سب نے کہاہاں ہم مان لیںگے (بخاری کتاب التفسیر سورۃالشعراءباب وانذر عشیر تک الاقربین) حالانکہ ویران علاقہ تھا اور صفا اور مروہ پر چڑھ کر دور دور نظر جاتی تھی ایسی حالت میں آپ کی بات ماننے کے صاف معنے یہی تھے کہ وہ اپنی آنکھوں کو جھوٹاسمجھتے حالانکہ وہ دیکھ رہے ہوتے کہ کوئی لشکر نہیں مگر وہ سب کے سب اپنی آنکھوں کوجھوٹاسمجھنے کے لئے تیار تھے لیکن یہ کہنے کے لئے تیار نہیںتھے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیںاور جب سب نے یہ اقرار کرلیا تو آپ نے فرمایا۔خدا نے مجھے تمہاری ہدایت و اصلاح کے لئے بھیجاہے۔پھر آپ کی صداقت کے متعلق ایک شدید ترین دشمن کی گواہی موجود ہے اہل مکہ کو جب خیال ہوا کہ حج کے