تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 474

آپ کی اپنی فطرت تھی جوبچپن سے ہی ایسی تھی کہ شرک سے سخت متنفر تھی چنانچہ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کے چچا زیدبن عمرو جنہوںنے زمانہ جاہلیت میںہی شرک چھوڑدیا تھا اور جو اپنے آپ کوشرک کے خلاف ایک بڑے مقام پر سمجھتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے گفتگو کے بعد آپؐ نے ان سے فرمایا کہ آئو کھانا کھا لو۔اس پر زید نے کہا میںمشرکوں کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھایا کرتا۔یہ سن کررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیںنے کبھی شرک نہیںکیا(بخاری کتاب مناقب الانصار باب حدیث زید ابن عمرو بن ثقیل)۔مگر زید نے تویہودیوں کی صحبت میںرہ کر شرک کی تھوڑی بہت مخالفت سیکھی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکی فطرت میں پیدائشی طورپر یہ بات موجود تھی یوں احکام الٰہی اور شریعت کی تفاصیل الہام الٰہی کے ذریعہ آپ کو معلوم ہوئیں لیکن جہاںتک توحید سے محبت اور شرک سے انتہائی نفرت کا سوال ہے یہ چیز بچپن سے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت میں موجود تھی۔آپ اتنا توجانتے تھے کہ خدا ایک ہے اور ایک ہی ہوناچاہیے لیکن خدا تک پہنچنے کے لئے اور معرفت کے حصول کے لئے رستہ کون ساہے یہ آپ کومعلو م نہ تھا۔اسی چیز کی تلاش میںآپ غارحرامیںعبادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے ایک دن آپ اپنے معمول کے مطابق عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ آپ پر ظاہر ہوا اور اس نے کہااقرء یعنی پڑھ آپ نے فرمایا۔مَااَ نَا بِقَارِيءٍیعنی میںتو پڑھ نہیںسکتا فرشتے نے یہ سنا توآپ کو زور کے ساتھ اپنے سینے سے لگاکر بھینچااور چھوڑ کر پھر کہا اِقْرَأْ مگر آپ نے پھر وہی جوب دیا کہ مَااَنَا بِقَارِيءٍ فرشتہ نے پھر آپ کو پکڑا اور زیادہ زور کے ساتھ سینہ سے لگاکر بھینچااور چھوڑکر کہااقرء مگر آپ نے پھر فرمایا مَااَنَا بِقَارِيءٍ اس پر فرشتہ نے تیسری بار پھر آپ کو پکڑا اور نہایت زور کے ساتھ سینہ سے لگاکر بھینچا اورکہا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ۔الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے دنیا کی تمام اشیا ء کو پیدا کیا ہے اورجس نے انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔ہم پھر تجھے کہتے ہیںکہ پڑھ۔تیرارب بڑاکریم ہے جس نے انسان کو قلم کے ساتھ سکھایا ہے اور اس نے انسان کووہ کچھ سکھایا ہے جووہ پہلے نہیںجانتاتھا۔(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء لوحی ) یہ آیا ت آپ پر پہلے دن غار حرامیں نازل ہوئیں اور اس طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کوبتایا گیا کہ اب آپ کو وہ علوم عطاکئے جانے والے ہیںجو اس سے پہلے دنیا میںکوئی انسان نہیںجانتا۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیںفرمایا کہ ہم تجھے وہ علوم عطاکریںگے جن کو انسان بھول چکا ہے۔بلکہ فرمایا ہم تجھ پر وہ علوم ظاہر کریں گے جن کوپہلے کوئی نہیںجانتااگر اللہ تعالیٰ یہ فرماتاکہ میںتجھے وہ علوم عطاکروںگا جو انسان بھول چکا تھا تو اس کے معنے یہ