تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 473

کفار مکہ اور یہودی اور عیسائی خدا تعالیٰ کی معرفت اور صداقت پر قائم نہ تھیں۔یہود کوتو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی نافرمانیوں اور مخالفت کی وجہ سے مجرم قراردے دیاتھا۔پس وہ قوم جو مجرم قرار پاچکی تھی وہ کس طرح کسی کی رہنمائی کرسکتی تھی عیسائی مشرک تھے کیونکہ وہ ایک خدا کی بجائے تین خدامانتے تھے اور مکہ والے بت پرست تھے پس جب آپؐ نے دیکھاکہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور تفرید ان تینوں قوموں کے ا ندر مفقود ہے اور یہ سارے کے سارے کفر اور شرک کے تاریک گڑھوں میںگر چکے ہیں توآپ کے دل میںتڑپ پیدا ہو ئی کہ میں کوئی ایسا رستہ تلاش کروں جو للہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہو۔یہ تڑپ آپ پر اتنی غالب آئی کہ آپ کو دنیا سے نفرت ہوگئی اور آپ نے اپنے گردوپیش کے شرک سے نفرت ظاہر کرتے ہوئے ان لوگوںکی مجالس میںشرکت سے پرہیز کرنا شروع کردیا جو دن رات بتوں کی پرستش کیا کرتے تھے مگر چونکہ آپ کے چاروں طرف ایسے لوگ بستے تھے جوبتوںپر چڑھاوے چڑھاتے تھے اور بتوںکی تعریف میںشعر کہتے تھے اور ان سے کلی علیحدگی ایک ناممکن امر تھا اس لئے آپ نے ارادہ کیاکہ کہیںالگ ہو کر خدائے واحد سے مدد طلب کی جائے تاکہ اس کی طرف سے ہدایت کے سامان پیدا ہوں چنانچہ آپ حضرت خدیجہ ؓ سے کئی کئی دن کا کھانا ساتھ لےکرمکہ سے باہر تین چار میل کے فاصلہ پرغارحرامیںتشریف لے جاتے اور وہاں یاد الٰہی میںمشغول رہتے اس زمانہ میں اور تو کوئی خاص کھانانہ ہوتاتھا صرف کچھ کھجوریں ستو اور سوکھاگوشت آپ اپنے ساتھ لے جاتے اور متواتر کئی کئی د ن اس غار میںعبادت الٰہی اور دعائوں میںمشغول رہتے تاکہ آپ کواور دوسرے بنی نوع انسان کو وہ رستہ مل جائے جوخداتک پہنچاتاہے۔یہ تڑپ جو آپ کے دل میں پیدا ہوئی ایک غیر معمولی تھی اور پھر یہ ایسی تڑپ تھی جس میں کسی انسانی مدد کا کو ئی سوال نہ تھا کیونکہ دنیا کا کوئی انسان اس میںآپ کا ہاتھ نہیںبٹا سکتا تھا۔دوسرے کاموں میںتو عزیزوںاور دوستوں کی مدد کام دے سکتی ہے یاروپیہ کام دے سکتاہے لیکن اس کام میں کوئی انسانی طاقت آپ کی ممد نہ ہوسکتی تھی اگر تو آپ کے زمانہ میں کوئی مذہب حقہ موجود ہوتا تو اس کی مدد ایک ذریعہ بن سکتی تھی۔مگر آپ کے زمانہ میں کوئی مذہب حقہ موجود نہ تھا اور تمام کی تمام قومیں شرک میں مبتلا تھیں اس لئے وحدانیت کی تلاش کی تڑپ ایک ایسی چیز تھی جس میںسوائے خدا تعالیٰ کے دنیا کی کوئی طاقت آپ کی مدد نہ کر سکتی تھی۔حضرت خدیجہؓ آپ کی وفادار اور غمگسار بیوی تھیں مگر وہ بھی اس معاملہ میں آپ کی کوئی مدد نہ کرسکتی تھیںآپ کے دوست بھی اس میںآپ کی کوئی مدد نہ کرسکتے تھے آپ کے اقرباء بھی اس میں آپ کی کو ئی مدد نہ کر سکتے تھے عیسائی راہب بھی اس میںآپ کی کوئی مدد نہ کرسکتے تھے اور مکہ کے کاہن بھی اس میں آپ کی کوئی مدد نہ کرسکتے تھے بلکہ وہ تو خود گم گشتہ راہ تھے انہوں نے آپ کی کیا مدد کرنی تھی ان سب سے بہتر خود