تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 472

معنے یَارَجُلُ کے ہیں کلبی کہتے ہیں کہ اگر تم کسی عک قبیلہ کے شخص کو یَارَجُلُ کہہ کر پکارو تو وہ بالکل جواب نہیںدےگا ہاں اسے طٰہٰ کہو تو وہ بول پڑے گا قطرب جو ایک مشہور لغوی اور نحوی ہیںاور سیبویہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے کہتے ہیں کہ یہ لفظ طے قبیلہ میںبھی اسی مفہوم میںاستعمال ہوتاہے۔لسان العرب میں بھی اس استعمال کا ذکر کیا گیاہے پس طٰہٰ کے معنے عرب کے مختلف قبیلوں میں چونکہ اے مردکامل القویٰ کے پائے جاتے ہیں۔اس لئے ہم نے طٰہٰ کاترجمہ اسی نظریہ کے ماتحت کیا ہے اور اسی نظریہ کے ماتحت اب ہم سورئہ طٰہٰ کو سورئہ مریم کے مضمون کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔طٰہٰ کے لفظ سے آنحضرت ؐ کے کامل ہونے کی طرف اشارہ کامل قوتوں والے مرد سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مردانگی کی تمام اعلیٰ صفات یعنی شجاعت اور سخاوت اور بدی کا مقابلہ وغیرہ کامل طورپر محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے تمام عالم انسانی میں صرف آپ ہی کامل انسان کہلانے کے مستحق ہیں۔چنانچہ جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں توہمیں معلوم ہوتاہے کہ محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقتاً ایک کامل انسان تھے اور آپ میں وہ تمام اوصاف بدرجہ اتم پائے جاتے تھے جو ایک کامل قوتیں رکھنے والے مرد کے اندر پائے جانے چاہئیں۔مثلاًبدی کے مقابلہ کی قوت کو ہی لے لو۔اس نقطہ نگاہ سے جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کاجائزہ لیا جائے تو آپ ؐکے پاکیزہ و مطہر قلب میں ہمیں بدی کے مقابلہ کی اس قدر شدید تڑپ دکھائی دیتی ہے کہ جس کی دنیا میں اور کہیں نظیر نہیں آتی۔آپ ابھی نبوت کے مقام پر فائز بھی نہیںہوئے تھے کہ آپ نے اس فطری جذبہ کے مطابق اس راستہ کی تلاش اور جستجو شروع کردی جس پر چل کر اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا عرفان حاصل ہوسکتاہو اس وقت حالت یہ تھی کہ آپ کا گرد وپیش سارے کاسارا کفر اور شرک سے بھراہواتھا۔کوئی قوم ایسی نہ تھی جو شرک اور بت پرستی میں مبتلا نہ ہو۔ایک طرف آپ کے ملنے والے عیسائی اور یہودی لوگ تھے جو شرک میں مبتلا ہوچکے تھے اور دوسری طرف مکہ کے لوگ تھے جوسرتاپا شرک میں ملوث تھے آپ نے ان تینوںقوموںکو دیکھا اور آپ کو محسوس ہوا کہ ان قوموں کے اندر معرفت کے کوئی آثار نـظر نہیں آتے کفار مکہ شرک کے اندر سر سے پائوں تک غرق تھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ کے اندر بھی تین سو ساٹھ بتوںکی پرستش ہوتی تھی(بخاری کتاب المغازی باب این رکز النبی الرایة یو م الفتح)۔ادھر یہودی اور عیسائی بھی شرک میں مبتلاتھے اور خدا کا خانہ بالکل خالی ہوچکاتھا۔یہودی لوگ یوں تو زبان سے شرک کے قائل نہ تھے مگر وہ ایک نبی کو خدا کا بیٹا قرار دیتے تھے جیسا کہ قرآن کریم میںہی آتا ہے کہ یہودی کہتے تھے عُزِیْرُابْنُ اللّٰہِ (التوبۃ :۳۰) یعنی عزیر اللہ کابیٹاہے۔بہرحال یہ تینوں قومیں یعنی