تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 471

زبردست ہوگئی ہیںکس طرح تباہ ہوںگی ؟ مگر ہم بتاتے ہیں کہ وہ اڑجائیںگے اور مسلمان ترقی پا جائیں گے (آیت ۱۰۶ تا ۱۱۳ ) اس کے بعد پھر ابتدائے سورۃ کے مضمون کی طرف رجوع کیا کہ اس قرآن کا سمجھنا آسان ہے۔کیونکہ یہ قرآن ملکی زبان میں ہے (غالباً مسیحیوںکوطعنہ ہے جو انجیل کے یونانی میں ہونے پر زور دیتے ہیں ) اور پھر اس میں مضمون بھی خوب کھول کر بیان کیا گیا ہے اس لئے تمثیل والی مصیبت سے محفوظ ہے جس کا کثرت سے اور مبالغہ آمیز طورپر استعمال انجیل میں کیا جاتاہے۔اس میں کوئی شبہ نہیںکہ قرآن کریم میں بھی مَثل کا لفظ استعمال ہوا ہے جیساکہ وہ فرماتا ہے وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ(بنی اسرائیل:۹۰) اور یہی مضمون سورۃ کہف رکوع ۸ میں بھی بیان ہوا ہے مگر وہاں مَثل کا لفظ تمثیل کے معنوں میںنہیں آتا بلکہ بیان کے معنوں میںاستعمال ہواہے اورمراد یہ ہے کہ ہم نے قرآن کریم میںہرقسم کے مضامین مختلف پیرایوں میںعمدگی کے ساتھ بیان کردیئے ہیں(آیت ۱۱۴ ) پھر بتایا کہ شریعت لعنت نہیں بلکہ رحمت ہے اس لئے احکام سماوی کے متعلق خود فیصلے نہیں کرنے چاہئیں بلکہ وحی کاانتظار کرنا چاہیے (آیت۱۱۵) اس کے بعد موسیٰ ؑ سے اوپر عروج کیا اور بتایا کہ آدم کا وہ واقعہ جس پر مسیحیت کی ساری بنیاد ہے محض ایک غلط فہمی ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیںاور اس سے زیادہ حقیقت ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ آدم جس سے یہ واقعہ پیش آیا تھااس کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی ایک خاص سکیم کے ماتحت تھی پھرکس طر ح ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ کی سکیم ناکام ہوجاتی۔چنانچہ بائیبل میںبھی لکھاہے کہ خدا نے آدم کو اپنی صورت پرپیدا کیا ‘‘ (پیدائش باب ۱ تا آیت ۲۷ ) لیکن ساتھ ہی بائیبل یہ بھی کہتی ہے کہ آدم نے حوا کے ورغلانے پرگناہ کیا (پیدائش باب ۳آیت ۱۲ ) اس کے مقابلہ میںقرآن کہتاہے کہ آدم نے گناہ نہیںکیابلکہ صرف ایک لغزش تھی جوبغیر ارادہ کے اس سے ظہور میں آئی جیسا کہ فرماتا ہے کہ فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ:۱۱۶) پس قرآن کریم کامضمون عقل کے بھی مطابق ہے اور بائیبل کے بھی اس بیان کے مطابق ہے کہ آدم کو خدا کی شکل پرپیدا کیاگیا لیکن بائیبل کابیان آپس میں تضاد رکھتاہے بائیبل نے پہلے خود کہا کہ آدم خدا کی شکل پر پیدا کیا گیا تھالیکن بعد میںاس کے افعال کو شیطانی قرار دے دیا حالانکہ اگر آدم نے فی الواقعہ گناہ کیاتھا تو درحقیقت خدا تعالیٰ کی سکیم فیل ہو ئی ا ورنعوذ باللہ اس کی کمزوری ثابت ہوئی (آیت ۱۱۶ تا ۱۲۴ )