تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 42

قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ وہ بعض دفعہ چھوٹے سے چھوٹے لفظ میں بڑی بھاری بات بیان کر دیتا ہے۔قرآن کریم میں رستہ کا ذکر کئی دوسرے مقامات پر بھی آتا ہے مگر کسی جگہ اس کے لئے سبیل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور کسی جگہ طریق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے نجد کا لفظ استعمال کیا ہے۔سبیل اور طریق کے الفاظ چھوڑ دئیے ہیں۔اس اختلاف سے پتہ لگتا ہے کہ یہاں مضمون کے ساتھ نجد کا ہی تعلق ہے سبیل اور طریق کا تعلق نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ لغت میں نجد کے معنے اونچے راستے کے ہیں۔جو چڑھائی والا ہو(اقرب)۔قرآن کریم نے دوسری جگہ یہ مضمون بیان کیا ہے کہ چڑھائی والے راستہ پر جب انسان چلتا ہے تو اسے تکلیف ہوتی ہے سانس پھولتا ہے اور اس کے پائوں وغیرہ میں کھلیاں پڑ جاتی ہیں۔اسی حالت کی طرف اللہ تعالیٰ نے یہاں اشارہ کیاہے۔یہ تو سیدھی بات ہے کہ جیسے فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ میں تشریح کر دی گئی ہے اس سے دنیوی رستہ مراد نہیں۔کیونکہ آگے یہ مضمون آتا ہے کہ اس نے صدقہ نہیں دیا۔خیرات نہیں دی یتامیٰ اور مساکین کا خیال نہیں رکھا پس صاف پتہ لگتا ہے کہ اس جگہ ظاہری رستہ مراد نہیں بلکہ دو راستوں سے مراد نیکی اور بدی کا راستہ ہے۔قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز انسان کے اندر ورثہ سے آ جائے اس کے لئے اسے محنت نہیںکرنی پڑتی۔مثلاً آنکھیں ہیں یہ ہمیں ورثہ میں ملی ہیں ان میں ہمارا کوئی دخل نہیں۔اس لئے آنکھوں سے دیکھنے کے لئے ہمیں نہ کسی مشق کی ضرورت ہوتی ہے نہ محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے آپ ہی آپ ہم دیکھنے لگ جاتے ہیں اسی طرح زبان میں ہمیں ورثہ میں ملی ہے اور ہم آپ ہی آپ بولنے لگ جاتے ہیں یا ہاتھ اور پائوں ہیں یہ بھی آپ ہی آپ چلنے لگ جاتے ہیں۔کیونکہ یہ ہمیں ورثہ کے طور پر ملے ہیں۔اگر گناہ بھی ورثہ میں ملا ہوتا۔تو اس کے لئے کسی مشق کی ضرورت نہیں تھی اور گناہ کاراستہ چڑھائی والا راستہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔جیسے ہاتھ اور پائوں ہمیں ورثہ میں ملے ہیں۔ہم نے اپنے ماں باپ سے لئے۔انہوں نے اپنے ماں باپ سے لئے۔نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں ان کے ہلانے جلانے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔اسی طرح گناہ بھی اگر ورثہ میں ملا ہے تو اس کے کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہیے تھی۔کیونکہ وہ طاقتیں جو ورثہ کے ساتھ آتی ہیں ان کے استعمال میں انسان کو محنت نہیں کرنی پڑتی۔لیکن فرماتا ہے ہم نے نجدین بنائے ہیں یعنی اگر تم نیکی میں بڑھنا چاہو تو تمہیں اس کے لئے بھی کوشش کرنی پڑے گی اور اگر تم بدی میں بڑھنا چاہو تو تمہیں اس کے لئے بھی کوشش کرنی پڑے گی۔پس نہ نیکی ورثہ میں ملی ہے نہ بدی ورثہ میں ملی ہے۔دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے۔گویا ہر چیز Self Acquired ہے۔بدی میں ترقی کرنا چاہو تو تمہیں محنت کرنی پڑے گی نیکی میں ترقی کرنا چاہو توتمہیں محنت کرنی پڑے گی اگر گناہ ورثہ میں ملا ہوتاتو پہلے جھوٹ اور پہلی چوری کےلئے کوئی محنت نہ کرنی پڑتی۔