تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 41

انسان مخاطب ہیں اور اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ انسان جتنا بھی زور لگا لے اس تعلیم کو تو بھلا نہیں سکتا۔یعنی ہم اسے قائم رکھیںگے اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ اس میں انسان کے مخفی سے مخفی خیالات کا بھی ذکر ہے اور ان بیرونی حوادث کا بھی ذکر ہے جو اس کے اعمال پر اثر انداز ہوتے ہیں وَ نُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرٰى اور ہم اس تعلیم کے پھیلانے میں تمہارے لئے سہولتیں بہم پہنچائیں گے اور یہ تعلیم پھیلتی چلی جائے گی اگر شریعت لعنت ہے تو ہم ایک تعلیم بھیجنے والے ہیں ہم دیکھیں گے کہ اس پر عمل ہوتا ہے یا نہیں۔فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى یہ جو ہم نے دلیلیں دی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ انسانی قلوب کی اصلاح شریعت اور اس سے متعلقہ چیزوں سے ہو جاتی ہے پس انہی طریقوں کو تم بھی استعمال کرو۔سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَّخْشٰى جب تم اس تعلیم کو پیش کرو گے تو جو لوگ اپنے دل میں خوف خدا رکھنے والے ہوں گے وہ اس سے ضرور فائدہ اٹھالیں گے۔ا س میں بھی اشارہ کیا ہے کہ نیکی ورثہ کی چیز ہے نہ کہ بدی۔کیونکہ خشیت دل میں پیدا ہوتی ہے وَ يَتَجَنَّبُهَا الْاَشْقَى اور اس سے وہ شخص بچنے کی کوشش کرے گا جو اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال چکا ہو۔آیت کا یہ دوسرا حصہ بھی بتاتا ہے کہ شقاوت خو دا نسان کی پیدا کردہ ہوتی ہے ورنہ ہر انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے پاک ہے۔(۵) پھر فرماتا ہے اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِ۔وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَيْنِ۔وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ ( البلد:۹ تا ۱۱) کیا انسان یہ نہیں سوچتا کہ ہم نے اسے آنکھیں دی ہیں۔وہ کہتا ہے کہ انسان گنہگار ہے۔وہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسان نے گناہ کوورثہ میں لیا ہے کیا ہم نے اسے آنکھیں نہیں دیں کیا ہم نے اسے زبان نہیں دی۔کیا ہم نے اسے ہونٹ نہیں دئیے اگر انسان فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا اور اس کی نجات کفارہ پر ہی منحصر تھی تو ہم نے اسے آنکھیں کیوں دی تھیں اور وہ دیکھتا کیوں ہے اور اگر اس کا دل گندا تھا اور وہ کسی واقف انسان سے تبادلہ خیالات کر کے اپنے گند کو دور نہیں کر سکتا تھا تو ہم نے اسے زبان کیوں دی تھی اور ا س کے ہونٹ کیوں بنائے تھے وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ۔پھر ہر انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے ایک کانشنس رکھی ہے جو نیکی اور بدی کا موازنہ کرتی ہے۔اگر یہ نیکی اور بدی کا موازنہ کر ہی نہیں سکتا تو اس کانشنس کی کیا ضرورت تھی۔کفارہ تو ایسا ہی ہے جیسے گڑھے میں پتھر ڈال کر کوئی شخص یہ سمجھ لے کہ اس طرح اس کا پیٹ بھر جائے گا چیز وہ ہوتی ہے جس کا کوئی منطقی نتیجہ نکلتا ہو۔جب اس کا کوئی منطقی نتیجہ نکلتا ہی نہیں اور انسان دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں تو اسے سوچنا چاہیے کہ پھر اس کی ضرورت کیا ہے اگر کفارہ پر ہی بنی نوع انسان کی نجات منحصر تھی تو کیا ضرورت تھی آنکھ کی۔کیا ضرورت تھی زبان کی۔کیا ضرورت تھی ہونٹوں کی۔اس کے بعد فرماتا ہے وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ۔پھر ہم نے اس کو دونوں راستے بتاد ئیے۔