تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 43
مگر جب کوئی پہلا جھوٹ بولتا ہے تو اس کا رنگ فق ہو جاتا ہے اور جب کوئی پہلی چوری کرتا ہے وہ آپ ہی بھاگا پھرتا ہے اور بعض دفعہ تو ایسی حرکات کرتا ہے کہ لوگوں کو پتہ لگ جاتا ہے کہ اس نے چوری کی ہے ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ ایک برہمن سے گائے ماری گئی اس زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر برہمن گائے مارے تو اسے قتل کر دیا جائے۔وہ گائے کو اپنے مکان میں ہی بند کر کے بھاگا۔راستہ میں جب بھی وہ دو آدمیوں کو آپس میں باتیں کرتا دیکھتا۔فوراً ان کے پاس پہنچتا اور کہتا کہ آپ گائے گائے کیا کہہ رہے ہیں۔وہ کہتے ہم تو گائے کا کوئی ذکر نہیں کر رہے وہ کہتا نہیں نہیں تم مجھ سے چھپاتے ہو۔ضرور تم گائے کا ذکر کر رہے ہو پھر آگے چلتا اور جب پھر دو تین آدمیوں کو آپس میں باتیں کرتے دیکھتا تو ان کے پاس پہنچتا اور کہتا یہ آپ بچھڑا بچھڑا کیا کہہ رہے ہیں وہ کہتے ہم تو کوئی ذکر نہیں کر رہے وہ کہتا نہیں کوئی بات ضرور ہے نتیجہ یہ ہوا کہ ابھی بازار ختم نہیں ہوا تھا کہ لوگوں کو شبہ پڑ گیا اور انہوں نے اسے پکڑ لیا۔گھر گئے تومری ہوئی گائے نکل آئی تو جب انسان کسی قسم کا بھی گناہ کرتا ہے پہلی مرتبہ اس کا نفس اسے ملامت کرتا ہے اور وہ شرمندہ ہوتا ہے۔چور چوری کرنے کے بعد گھبرایا پھرتا ہے ڈاکو ڈاکہ مارنے کے بعد گھبرایا پھرتا ہے اگر گناہ ورثہ میں آیا ہوتا تو گناہ کا راستہ نجد کیوں ہوتا اور اس کے لئے چڑھائی کیوں چڑھنی پڑتی۔(۶) پھر فرماتا ہےقَالَ رَبُّنَا الَّذِيْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى (طہ:۵۱) حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون سے کہتے ہیں کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی طاقت کے مطابق قوتیں دی ہیں اور پھر یہ بتایا ہے کہ وہ اس اس طرح ترقی کر سکتی ہے۔ا س جگہكُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهٗ میں انسان کی خلق بھی شامل ہے اور بائبل خود مانتی ہے کہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ اس کا خدا سے تعلق ہو۔اور وہی انسان مبارک ہے جو اس کے احکام کو سنتا اور ان پر عمل کرتا ہے (امثال باب۸ آیت ۳۴) (۷) اسی طرح فرماتا ہے وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ(السجدۃ:۱۴) اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے اس جگہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا مضمون پہلی آیتوں کے مضمون کے خلاف ہے لیکن حقیقتاً خلاف نہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا وَ لَوْ شِئْنَا لَھَدَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ۔اگر یہ الفاظ ہوتے تب بھی اس کا مضمون پہلے مضامین کے خلاف نہ ہوتا لیکن یہاں ھُدٰ ھَا کے الفاظ ہیں یعنی ہر نفس جو ہم نے پیدا کیا ہے اس کے اندر اس کی ہدایت کا بھی سامان رکھا ہے بعض لوگ اس ہدایت کو نکال کر باہر پھینک دیتے ہیں اگر ہم چاہتے تو مجبور کر کے انہیں ہدایت واپس دے دیتے۔مگر جبر سے چونکہ پیدائش انسانی کی غرض