تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 450

ہوگیا۔وہ زور لگالگاکر اوپر کھینچتے مگر وہ پھر نیچے گرجاتے اور وہ کارپورل پاس کھڑاانہیں کہتا جاتاکہ شاباش خوب زور لگائو۔شاباش ہمت نہ ہارو مگر آگے بڑھ کر ان کی مدد نہیںکرتاتھا۔اسی دوران میں واشنگٹن وہاں سے گذرا۔وہ اس وقت ایک سفید گھوڑے پرسوار تھا۔اس نے جب یہ نظارہ دیکھاتو اپناگھوڑاروک لیا اور پوچھا کہ یہ کیاہورہا ہے لوگوں نے بتایاکہ انگریزی فوج آرہی ہے اس کے مقابلہ کے لئے ہم یہ قلعہ بنارہے ہیں۔تاکہ سپاہی اس میں ٹھہر سکیں اس نے کہا پھر اس قلعہ کے بننے میں دقت کیاہے ؟ انہوں نے کہا دقت یہ ہے کہ شہتیر بہت بھاری ہیںاورہم سے اوپرچڑھائے نہیںجاتے اس نے کارپورل سے پوچھاکہ تم ان کی کیوں مددد نہیںکرتے ؟ اس نے کہاکہ میں تو افسرہوں۔میرافرض یہ ہے کہ میں ان سے کام لوں اور ان کی نگرانی کروں واشنگٹن نے یہ بات سنی۔تو فوراً اپنے گھوڑے پرسے اترا۔اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر اس نے کام کرناشروع کردیا۔یہاں تک کہ شہتیر اوپر چڑھ گئے۔جب کام ہوچکا اوروہ گھوڑے پرسوار ہو کرواپس جانے لگاتو کارپورل نے اسے کہا۔کہ میں آپ کااپنی طرف اور اپنی قوم کی طرف سے شکریہ اداکرتاہوں۔کہ آپ نے اس مشکل کام میں ہماری مدد کی۔واشنگٹن نے جواب میں کہاآپ کی مہربانی میں صرف اس قدر کہناچاہتاہوںکہ جب کبھی آپ کسی ایسی مصیبت میں پھنس جائیںکہ آپ کو دوسرے کی مدد کی ضرورت ہو۔تو اپنے کمانڈرانچیف واشنگٹن کوبلالیاکرنا۔یہ قائد کی مثال ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر کام کے لئے پیش کردیتاہے اورقربانی کے وقت وہ دوسروں سے پیچھے نہیں بلکہ ان کے آگے آگے ہوتاہے اوراپنے نمونہ سے ان کے اندر کام کی تحریص پیداکرتاہے۔اگر کسی اعلیٰ درجہ کے قائد کے ہوتے ہوئے بھی لوگ اس کے نمونہ سے فائدہ نہ اٹھائیں تو یہ ان کی بڑی بدقسمتی ہوتی ہے۔ہم نے خدام کے افسروں کانام بھی قائد اسی لئے رکھا ہے کہ وہ اپنے نمونہ سے لوگوں کے دل فتح کریں۔وِرْدًا کے معنے پانی پرآنے کے ہوتے ہیںچنانچہ لغت میںلکھاہے اَلْوِرْدُالْاَشْرَافُ عَلٰی الْمَاءِ اسی طرح اس کے معنے پیاس کے بھی ہوتے ہیں۔اس کے معنے پانی کے حصہ کے بھی ہوتے ہیںاوروِرْدٌ کے معنے اس پانی کے گھاٹ کے بھی ہوتے ہیں جس پرلوگ آتے جاتے ہیںتاکہ پانی وغیرہ پئیں اوراس کے معنے اس قوم کے بھی ہوتے ہیں جوکسی پانی والی جگہ پرجمع ہوجاتی ہے(اقرب)۔اس آیت میںبتایا گیاہے کہ کفار کا حشر بھی اجتماعی ہوگا۔مگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہونے سے گھبرائیں گے۔اس لئے ان کو مارمار کر اکٹھا رکھا جائےگا۔اور آخر وہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیںگے اس حالت میں کہ وہ ایسی جگہ پر جانے کے محتاج ہوںگے جہاں ان کی پیاس بجھے۔یہ الفاظ ان کے عذاب کی شدت پر دلالت کرتے ہیں