تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 451

یعنی وہ ا س بات کے محتاج ہوںگے کہ ان کو کوئی ایسا مقام ملے جہاں وہ آرام کریں اور انہیں پینے کےلئے پانی ملے۔مگر باوجود اس شدید احتیاج کے ان کومارمار کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور وہ اتنا خطرناک اور تکلیف دہ مقام ہوگاکہ وہ اس کی طرف رخ کرنا بھی پسند نہیںکریں گے۔لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ اس دن کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے اس کے جس نے (خدائے )رحمٰن سے عَهْدًاۘ۰۰۸۸ عہدلے چھوڑا ہے۔حلّ لُغَات۔لغت میں لکھا ہے الشَّفْعُ ضَمُّ الشَّیْءِ اِلی مِثْلِہٖ یعنی شفع اس بات کوکہتے ہیںکہ کسی چیز کو اپنی ہم جنس اور مشابہ چیز کے ساتھ ملالیا جائے وَقِیْلَ الشَّفْعُ الْمَخْلُوْقَاتُ اور شفع کے معنے مخلوقات کے بھی ہوتے ہیں مِنْ حَیْثُ اَنَّھامُرَکَّبَاتٌ کیونکہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں وہ ساری کی ساری مرکب ہیں کَمَاقَالَ وَ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ہم نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے۔اسی طرح شفاعت کے متعلق لکھا ہے۔الشَّفَاعَةُ الْاِنْضِمَامُ اِلٰی اٰخَرَنَا صِرًا لَّہٗ وَ سَائِلًا عَنْہُ وَ اَکْثرُ مَا یُسْتَعْمَلُ فِی اِنْضِمَامِ مَنْ ھُوَ اَعْلٰی حُرْمَةً وَّمَرْتَبَةً اِلٰی مَنْ ھُوَ اَدْنٰی وَ مِنْہُ الشَّفَاعَةُ فِی الْقِیَامَةِ قَالَ لَا یَمْلِکُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحمٰنِ عَھْدًا وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی وَقَوْلُہُ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِہٖ (مفردات) یعنی شفاعت کے معنے ہیں کسی شخص کا دوسرے کے ساتھ اس طرح پر مل جانا کہ وہ اس کا مددگار ہوجائے اور اس کے متعلق سوال کرنے والا بن جائے اور اس لفظ کا اکثر استعمال کسی اعلیٰ چیز کے ساتھ ادنیٰ چیز کو ملانے پرکیا جاتاہے۔یعنی دوسری چیز جس کو ساتھ ملایا جاتاہے وہ مثل تو ہوتی ہے لیکن درجہ اور مقام کے لحاظ سے وہ ادنیٰ ہوتی ہے انہی معنوں میں وہ شفاعت بھی ہے جو قیامت کےدن ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میںفرماتا ہے کہ لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا (الانبیاء :۲۹)یا فرماتا ہے لَا يَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى (الانبیاء:۲۹) اسی طرح فرماتا ہے مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ(یونس:۴) تفسیر۔اوپر کے معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاعت کی تھیوری بالکل حل ہوجاتی ہے۔مسلمانوں میں