تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 435

اکثریت بے جان ہے یعنی لوگ یا تو پتھروںکو پوجتے ہیں۔یا درختوں کو بوجتے ہیںیادریائوں کوپوجتے ہیں۔چونکہ وہ ان بتوں کو بعض پرانے بزرگوں یا ملائکہ وغیرہ کا قائم مقام سمجھتے ہیں اورکہتے ہیںکہ یہ بت فلاںدیوتا کا قائم مقام ہے۔یہ بت فلاںفرشتہ کی تمثیل ہے یہ بت فلاں بزرگ کا مجسمہ ہے۔اس لئے وہی فرشتہ اور بزرگ ان کےسامنے آئیںگے اورکہیںگے کہ ہم تو خدا تعالیٰ کے عبادت گذارتھے۔مگر تم نے ہماری ہی پرستش شروع کردی۔ہم تمہارے اس فعل سے بیزار ہیں اور تمہیںکسی قسم کی ہمدردی کامستحق نہیںسمجھتے اور چونکہ اصل معبود وہی ہیں اس لئے ان کے جواب میں سب کے سب بت بھی شریک ہوجائیںگے۔اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ۰۰۸۴ کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہم نے شیطانوں کو چھوڑ رکھا ہے کہ وہ کافروں کو اکساتے رہیں۔حلّ لُغَات۔اَ زٌُّّ کے اصل معنے ہنڈیا کے ابال کے ہوتے ہیں لیکن عام طور یہ کسی کو جوش دلانے کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔پس تَؤُزُّهُمْ اَزًّاکے معنے یہ ہیں کہ وہ ان کو خوب جوش دلاتے ہیں ھَزَّ کے معنے بھی ہلانے اور جوش دلانے کے ہوتے ہیںلیکن اَ زٌّ کا لفظ ھَزَّ سے معنوں میں زیادہ قوی ہوتاہے۔(مفردات) اَرْسَلَ کے معنے عام طور پر بھیجنے کے ہوتے ہیں لیکن ا س کے ایک معنے علاوہ بھیجنے کے خَلّٰی کے بھی ہوتے ہیں یعنی اس کو چھوڑ دیا اورا س کے ارادوں میں مزاحم نہ ہوا چنانچہ عربی میں کہتے ہیں اَرْسَلْتُ البَعِیْرَ اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیںکہ خَلَّیْتُہٗ (قرطبی )یعنی جب اونٹ کے رسے کھول دیئے جائیںاورا سے آزادانہ طور پر بلاروک ٹوک پھر نے دیا جائے تو کہتے ہیں اَرْسَلْتُ البَعِیْرَ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ خَلَّیْتُہٗ میں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ ہمارا اصل کام تو یہ ہوتاہے کہ ہم شیطانوں سے اپنے بندوں کی حفاظت کرتے ہیں۔جیسے قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہ اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ (الحجر:۴۳) ہم نے اپنے بندوں پرشیطان کے لئے غلبہ مقدر نہیں کیا لیکن یہ قسم کفار کی ایسی ہوتی ہے کہ اس میںہم اپنی حفاظت واپس لے لیتے ہیں اور شیطانوں کو ان پر حملہ کرنے کےلئے کھلاچھوڑ دیتے ہیںکہ اب تمہارا جوجی چاہے کروہم تمہارے معاملات میںکو ئی دخل دینے کے لئے تیا ر نہیں۔گویا اَرْسَلَ کے یہ معنے نہیںکہ ہم ان پر حملہ کرنے کے لئے شیطانوںکو بھیجتے ہیںیا خود انہیں کفار کے پیچھے لگادیتے