تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 436

ہیںبلکہ ا س کے معنے یہ ہیں کہ پہلے تو ہم شیطانوں کو باندھے رکھتے ہیںیا جب وہ حملہ کرتے ہیںتو ہم ان کے اور اپنے بندوںکے درمیان کھڑے ہوجاتے ہیں اوران کا مقابلہ کرتے ہیں لیکن یہ قسم کفار کی ایسی ہے کہ جب شیطان حملہ کرتے ہیں تو ہم انہیںکہتے ہیںکہ جوکچھ تمہاری مرضی ہے کرو اور ہم ان دونوں کے درمیان سے اپنے وجود کو نکال لیتے ہیں کیونکہ دونوں میںایسی موانست ہوجاتی ہے کہ و ہ شوق سے ایک دوسرے کی طرف بھاگتے ہیں۔غرض اس جگہ اَرْسَلَ کے یہ معنے نہیں کہ ہم انہیں حملہ کرنے کے لئے بھیجتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ پہلے تو ہم انہیں باندھے رکھتے ہیںیااگر وہ حملہ کرتے ہیں تو ان کا مقابلہ کرتے ہیں لیکن ایک وقت ایسا آجاتاہے کہ ہم ان دونوںکے درمیان آنے سے رک جاتے ہیں۔کیونکہ ان دونوں میں ایسا اتحاد ہو جاتاہے اور اس قسم کی محبت باہمی پیدا ہوجاتی ہے کہ انتہائی شوق سے ایک دوسرے سے بغلگیر ہونے کےلئے دوڑتے ہیں اس لئے ہم ان کے معاملات میں دخل دینے سے انکار کردیتے ہیں۔توتَؤُزُّهُمْ اَزًّا کے تین معنے ہیں : اول یہ کہ وہ ان کو معاصی کی طرف رغبت دلاتے ہیں۔کیونکہ بہر حال جب شیطان کسی کو اکسائے گا تو ایسے ہی کاموں پر اکسائے گا جو اس کی طبیعت کے مطابق ہوں اور چونکہ شیطان کا معاصی سے ہی تعلق ہے اس لئے شیطان کا کسی کو اکسانا یہی معنے رکھتاہے کہ وہ اسے معاصی کی رغبت دلائے گا۔اگر یہ کہا جائے کہ استاد لڑکے کو بہت اکساتا ہے تو فوری طورپر انسانی ذہن اسی طرف جائے گا کہ وہ لڑکے کو تعلیم کی ترغیب دیتاہے اور اسے باربار اس طرف متوجہ کرتاہے۔یا اگر کہا جائے کہ کرکٹ کا کپتان بہت اکساتاہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ لڑکوں کو کرکٹ کھیلنے کی ترغیب دیتاہے شیطان چونکہ شیطانی کاموں پر ہی اکساسکتے ہیں اس لئے تَؤُزُّهُمْ اَزًّاکے ایک معنے یہ ہوں گے کہ وہ ان کو معاصی کی ترغیب دلاتے ہیں۔دوسرے معنے یہ ہوں گے کہ وہ ان کو اتنا اکساتے جاتے ہیں کہ آخر وہ جہنم میں جاگرتے ہیں یعنی وہ انہیں معاصی کی رغبت دلاتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ قدم بڑھاتے بڑھاتے وہ جہنم میںجاگرتے ہیں۔تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ وہ ان کو مسلمانوں کا مقابلہ کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے لئے جوش دلاتے ہیںکیونکہ شیطان اپنے مدمقابل کے خلاف ہی انہیںاکساسکتاہے۔اور اس کااصل مقابلہ اسلام اور مسلمانوںسے ہی ہے شیطان چونکہ براہ راست حملہ نہیںکر سکتااس لئے وہ اپنے ساتھیوں کو ابھارتااور انہیںاکساتا ہے کہ اٹھو اور مسلمانوںپر حملہ کرو۔