تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 434

اس نتیجہ کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچیںگے کہ وہ غیر اللہ کی پرستش کاانکار کردیں۔وہ اس وقت تعداد کے لحاظ سے لاکھوں اور کروڑوں ہوںگے۔مگر نتیجہ پر پہنچنے کے لحاظ سے فرد واحد کی حیثیت اختیار کرلیں گے اور یک زبان ہوکر مشرک معبودوں کی اور معبود مشرکوں کی تردید کریںگے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ اکثر معبود تو بے جان ہوتے ہیں پھر وہ کیسے بات کریں گے اس کے تین جواب ہیں۔(۱)ایک تو یہ کہ کچھ معبود جو جاندار ہیں۔جیسے ملائکہ اور مسیح ؑ وغیرہ وہ ایسا کریںگے بے جانوں کی طرف سے خود ہی جواب آجائے گا۔(۲)دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ کبھی کبھی روحانی دنیا میں ایسا بھی ہوتاہے کہ بے جان چیزیں بھی متمثل ہو کر جواب دے دیتی ہیں۔چنانچہ خوابوں اور کشوف میںکثرت کے ساتھ ایسا ہوتاہے۔بعض دفعہ درخت بولنے لگ جاتے ہیں۔بعض دفعہ مکان بولنے لگ جاتے ہیںبعض دفعہ دیوار بولنے لگ جاتی ہے اور انسان ان کے کلام سے ویساہی اثر قبول کرتاہے جیسے زندہ اور جاندار چیزوں کے کلام سے اثر قبول کرتاہے۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ایک دفعہ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مکان مجھے کہتاتھا کہ یہاں سے جلدی نکلو میں گرنے والا ہوں۔پس اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ بے جان بت کس طرح کلام کریںگے۔وہ بے شک بے جان ہیں مگر اس وقت متمثل ہو کر اُنہیں ذلیل کرنے کے لئے یہ جواب دیںگے۔اور چونکہ اس وقت روحانیت تیز ہو جائے گی وہ سمجھ جائیںگے کہ حقیقت یہی ہے۔(۳)تیسرا جواب اس کا یہ ہے کہ بت درحقیقت پرانے بزرگوں یا ملائکہ کے تمثیلی وجود ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ بت اصل میں پتھر نہیں بلکہ یہ قوم کے بزرگوں کی ایک تمثیل اور نقل ہیں (بخاری کتاب التفسیر سورة نوح باب ودا و لا سوا عا ولا یغوث و یعوق)۔جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قوم نے عزت کی تو ان کا ایک بت بنالیا۔یا فرشتوں کی عزت کی توان کے نام پر بت بنالئے۔پس چونکہ یہ بت ایک تمثیلی وجود ہیں۔اس لئے جن کی وہ تمثیل ہیںوہ جواب دیںگے اور وہی جواب بتوںکا سمجھا جائے گا۔اور چونکہ اصل معبود وہی ہیں اس لئے انہی کا جواب حقیقی جواب ہوگا۔مثلاً جس فرشتے کا بت بناکر پوجا جاتاہے وہ فرشتہ کھڑا ہوگا اور سب کے سامنے انہیں ذلیل کرےگا یا حضرت اسماعیل علیہ السلام جن کابت بنا کر اس کی پرستش کی جاتی تھی کہیں گے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیںمیں توآپ خدا تعالیٰ کو ماننے والااور اس کی پرستش کرنے والا تھا۔پس باوجود اس کے کہ بتوں کی