تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 426
تمہیں بھی اس حقیقت کا احساس ہوا۔مگر گھبرائو نہیں اور مجھے مدینہ پہنچ لینے دو۔پھردیکھو گے کہ مدینہ کا سب سے معزز انسان یعنی وہ کمبخت خود مدینہ کے سب سے زیادہ ذلیل انسان یعنی نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا اور یہ فتنہ پھر کبھی سر نہیںاٹھائے گا جب اس نے یہ الفاظ کہے تو انصار اور مہاجرین دونوں سمجھ گئے کہ ہمارے جوش سے اس نے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہا ہے۔چنانچہ وہ سنبھل گئے اور انہوں نے آپس میں صلح کرلی۔مگر اس دوران میں کسی نے دوڑکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے دی کہ یا رسول اللہ عبداللہ بن ابی ابن سلول نے آج اس اس طرح کہا ہے۔آپ نے عبداللہ بن ابی ابن سلول اور ا س کے دوستوں کو بلالیا اور فرمایا کہ کیابات ہوئی ہے انہوں نے اس واقعہ سے بالکل انکارکردیا اور کہا کہ یہ بالکل غلط بات ہے ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں لیکن بات سچی تھی پھیلنی شروع ہوئی اور عبداللہ کے بیٹے تک بھی یہ بات جاپہنچی کہ آج اس کے باپ نے ایک جھگڑے کے موقع پر یہ کہا ہے کہ مجھے مدینہ پہنچ لینے دو پھر وہاں کا معزز ترین انسان یعنی وہ خودمدینہ کے ذلیل ترین انسان یعنی نعوذ باللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال کر رہے گا۔وہ ایک مخلص نوجوان تھاوہ یہ سنتے ہی بیتاب ہوگیا اور اسی وقت رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے سنا ہے کہ آج میرے باپ نے یہ الفاظ کہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میرے پاس بھی رپورٹ پہنچ چکی ہے اس نے کہا یا رسول اللہ اس جرم کی سزا سوائے اس کے اور کیا ہوسکتی ہے کہ آپ میرے باپ کو قتل کرنے کاحکم دے دیں۔اور یہ بالکل جائز اور درست سزاہے مگر یارسول اللہ میں یہ درخواست کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں کہ اگر آپ میرے باپ کے قتل کا حکم نافذ فرمائیں تو کسی اور کو قتل کرنے کا حکم نہ دیں بلکہ مجھے حکم دیںکہ میں اپنے باپ کو قتل کروں۔کیونکہ اگر آپ نے کسی اور مسلمان کو حکم دیا اور اس نے میرے باپ کوقتل کر دیاتو ممکن ہے کہ شیطان کسی وقت مجھے ورغلادے کہ یہ میرے باپ کاقاتل ہے اور میںجوش میں اس پر حملہ کربیٹھوں۔اس لئے آپ کسی اور کو حکم دینے کی بجائے مجھے ہی یہ حکم دیں کہ میں اپنے باپ کو اپنے ہاتھ سے قتل کردوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ہم اسے کوئی سزا دینانہیں چاہتے اس نے کہا یا رسول اللہ یہ ٹھیک ہے کہ آپ اس وقت اسے کوئی سزا دینا نہیں چاہتے لیکن اگر پھر کسی وقت اسے سزا دینا مناسب سمجھیں تو میری درخواست ہے کہ آپ رحم فرما کر مجھے ہی حکم دیں کہ میں اپنے باپ کو قتل کردوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ہمارا اسے سزاد ینے کا کوئی ارادہ نہیں ہم تمہارے باپ کے ساتھ نرمی اور ملاطفت کا ہی سلوک کریں گے وہ وہاں سے اٹھا اور خاموشی کے ساتھ چلا آیا مگر اس کا دل ان الفاظ کی وجہ سے جل رہا تھا اور اسے کسی پہلو قرار اور اطمینان نہیں آتا تھاجب لشکر مدینہ کی