تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 425

ان کی دولت بھی چھین لیں گے ان کی عزت بھی چھین لیں گے۔ان کا رتبہ بھی چھین لیں گے۔ان کی اولاد یں بھی چھین لیںگے۔وَ يَاْتِيْنَا فَرْدًا اور وہ ایک فرد کی حیثیت میں ہمارے پاس آئیں گے۔يَاْتِيْنَا فَرْدًا میں مال کا ذکر نہیںکیا گیا۔صرف اس کی ذاتی حیثیت کی طرف اشارہ کردیاگیاہے کیونکہ انسان کے دو قسم کے ساتھی ہوتے ہیں۔ایک وہ ہوتے ہیں جورشتہ داری کی وجہ سے انسان کے ساتھ ہوتے ہیں۔جیسے ماں باپ ہوئے یااولاد ہوئی یا بہن بھائی ہوئے یا بیوی ہوئی۔اور ایک وہ ہوتے ہیں جو حصول فائدہ کے خیال سے جو مال اور رتبہ کاایک لازمی نتیجہ ہوتاہے۔انسان کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں۔گویا وہ دولت اور عزت کے بھو کے ہوتے ہیں۔یا شہرت کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ کسی کے پاس مال ہے اور وہ بڑا صاحب رسوخ انسان ہے تو مختلف قسم کے فوائد کے حصول کےلئے وہ اس کی خوشامدیں کرنے لگ جاتے ہیںاوراس کے ساتھی اور دوست بن جاتے ہیں۔مگر فرمایا جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو وہ صرف ایک فرد کی حیثیت میں ہوگا کسی قسم کے ساتھی اس کے ساتھ نہیں ہوںگے۔پہلے فرمایا تھا کہ ہم مال اور اولاد دونوں کے وارث ہوجائیں گے۔اب بتاتاہے کہ چونکہ ہم ان کی اولادیں چھین لیںگے اس لئے وہ اکیلے رہ جائیںگے اور چونکہ ہم مال بھی لے لیں گے۔اس لئے وہ لوگ جومال کی وجہ سے ان کے ارد گرد اکٹھے تھے اور جو را ت دن خوشامدیں کرتے رہتے تھے وہ بھی بھاگ جائیں گے۔غرض يَاْتِيْنَا فَرْدًا میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ کیاہے کہ ہم ان کےمال اور اولاد دونوں لے لیں گے فرداً میں اولاد اور خدم ومصاحب سب کی نفی کردی اور جو حصول فائدہ کےلئے ساتھ ہوتے ہیںان کی نفی میں مال و دولت کی نفی خود بخود آگئی کیونکہ وہ لوگ تبھی ساتھ چھوڑتے ہیں جبکہ مال اور رتبہ نہ رہے۔کفار مکہ کو ہی دیکھ لو ان لوگوں کو اپنی اولادوں پر کتنا بڑا ناز تھا مگر پھر وہی اولادیں خدا تعالیٰ نے ان سے چھین کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دیں اور سردار انِ کفار ذلیل ہو کر رہ گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو مصطلق پرلشکر کشی کی تو وہاں انصار اورمہاجرین میں کنوئیں سے پانی نکالنے پر جھگڑاہوگیا اوراس جھگڑے نے اس قدر طول کھینچا کہ انصار اور مہاجرین نے تلواریں نکال لیںاور وہ ایک دوسرے سے لڑائی پر آمادہ ہوگئے۔عبد اللہ بن ابی ابن سلول نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا چنانچہ وہ آگے بڑھا او راس نے کہا اے انصار !یہ تمہاری ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ آج تمہیںیہ دن دیکھنا پڑا۔میں تمہیں پہلے ہی سمجھاتاتھا کہ تم ان مہاجرین کو اپنے سرنہ چڑھائو ورنہ کسی دن تکلیف اٹھائو گے مگر تم نے میری بات نہ مانی۔اب خدا کاشکر ہے کہ