تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 417

قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى تو کہہ دے کہ جو شخص گمراہی میں (پڑا) ہو (خدائے )رحمن اُسے ایک عرصہ تک ڈھیل دیتاجاتاہے یہاں تک کہ اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ جب ایسے لوگوں کے سامنے وہ عذاب آجائےگا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا (یعنی )یادنیوی عذاب یا (قومی ) فَسَيَعْلَمُوْنَ۠ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا۰۰۷۶ کاملتباہی۔اس وقت وہ جان لیں گے کہ کون شخص مکان کے لحاظ سے بدتر ہے اور دوستوں کے لحاظ سے کمزور ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے دنیا میں قائم رہنے کا ذریعہ یہ ہوتاہے کہ انسان سیدھے راستہ پر چل رہا ہو اگر وہ سیدھے راستے پر نہیں چلتا۔تو ہر عقلمند سمجھ لیتا ہے کہ یہ آج گرا یاکل کیونکہ یہ ہونہیں سکتاکہ ایک شخص غلط راستے پرچل رہا ہو۔تباہی اور ہلاکت کی طرف جارہا ہو اور پھر تباہی اور ہلاکت کے گڑھے میں نہ گرے۔اگر کوئی شخص غلط راستے پر چل رہا ہے اورپھر بھی یہ امید رکھتا ہے کہ وہ کامیاب ہوگا تو اس کی ایسی ہی مثال ہوگی جیسے کہتے ہیںکہ شیخ چلی ایک درخت پرچڑھ کر اسی شاخ کو کاٹنے لگ گیا جس پر وہ بیٹھاتھا۔کوئی شخص نیچے سے گذرا تو اس نے کہا میاں یہ کیا کررہے ہو کہ جس شاخ پر تم بیٹھے ہو اسی شاخ کو تم کاٹ رہے ہو تم تو نیچے گرپڑو گے۔اس نے کہا جائو جائو بڑانبی بن کر آیا ہے۔تمہیںکیا پتہ کہ میں نیچے گروں گایانہیں۔وہ کہنے لگاصاف نظر آرہاہے کہ جب تم اسی شاخ کوکاٹ رہے ہو جس پر بیٹھے ہوتو جب شاخ کٹی تو تم بھی نیچے آگرو گے۔کہنے لگا جاو اور اپنا کام کرو ہم نے بہت لوگ ایسے دیکھے ہوئے ہیںجو اس قسم کے دعوے کیا کرتے ہیں۔چنانچہ وہ چلاگیا۔اب یہ سیدھی بات تھی کہ اس نے بہرحال نیچے گرناتھا چنانچہ جب شاخ کٹ گئی تو وہ نیچے آپڑا۔اب وہ اس شخص کی طرف بھاگا جس نے کہا تھا کہ ایسامت کرو ورنہ گرجائوگے اوراسے کہنے لگا کہ مجھ سے بڑی غلطی ہوئی کہ میں نے تمہاری بات نہ مانی۔اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے نبی ہو اس نے کہا میں بالکل نبی نہیں۔میں نے تواپنی عقل سے ایک قیاس کیا تھا کہ جب تم اسی شاخ کو کاٹ رہے ہو جس پر بیٹھے ہو تو ضرور گرو گے۔کہنے لگا نہیں تم ضرور نبی ہو۔اب تم مجھے یہ بتائو کہ میں کب مروں گا۔اس نے کہا مجھے کیا پتہ کہ تم کب مرو گے مگر وہ پیچھے پڑ گیا کہ مجھے ضرور بتائو۔آخر اس نے پیچھا چھڑانے کے لئے کہہ دیا کہ جس دن تمہارے منہ سے خون آیا اس دن تم مرجائو گے۔وہ یہ سن کر واپس آگیا۔وہ جلاہا تھا۔ایک دن تانی تن رہا