تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 418

تھا کہ سرخ تاگا اس کے دانتوں میں پھنس گیا۔جس کا رنگ دانتوںپر لگ گیا اوراس نے یہ سمجھاکہ میرے منہ سے خون آگیا ہے چنانچہ وہ اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ میں اب مرنے لگا ہوں میرے کفن دفن کی تیاری کرو۔ایسی ہی جہالت ان لوگوں میں پائی جاتی ہے۔جب واقعات نظر آتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہ لوگ غلط راستے پرجارہے ہیں۔تو یہ کہنا کہ اس غلط راستے پر چلنے کانتیجہ کس طرح نکلے گا۔اور ہم ہلاک اور برباد کس طرح ہوسکتے ہیں۔با لکل شیخ چلی والی بات ہے۔ایک طرف روس کی طاقت دیکھی جائے اور دوسری طرف امریکہ کی طاقت دیکھی جائے توصاف پتہ لگتاہے کہ۔یہ دونوںمقابل کی طاقتیں ہیں۔اورجب ان میں ٹکر ہوئی تو یہ دونوں تباہ ہوکر رہیں گی۔جس طرح گذشتہ جنگ میںجرمنی تباہ ہوا۔اٹلی برباد ہوا فرانس ختم ہوااسی طرح اب جنگ ہوئی تو روس اور امریکہ ختم ہوجائیں گے اسی مضمون کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ کرتاہے اور فرماتا ہے کہ جس کی گمراہی ثابت ہوچکی ہو اس کے انجام کے متعلق کوئی دورائیں ہو ہی نہیں سکتیں۔تم یہ دیکھو کہ تم میںضلالت پائی جاتی ہے یا نہیں اوراگر تم میں ضلالت پائی جاتی ہے تو پھر ہم ٹھیک کہتے ہیں کہ خواہ تمہاری کتنی بھی طاقت ہو تم ایک دن ختم ہوجائو گے۔کیونکہ تم غلط راستہ پر جارہے ہو۔فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا یہ امر کاصیغہ ہے یعنی چاہیے کہ رحمٰن اس کو اورمہلت دے مگر مراد یہ ہے کہ رحمٰن اس کو اور مہلت دے گا۔یعنی امر اس جگہ خبر کے معنوں میں زور دینے کےلئے استعمال ہواہے۔اوربتایا گیا ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔عربی زبان کا طریق ہےکہ اس میں بعض دفعہ امر کا صیغہ استعمال کیا جاتاہے اور مراد زور دینا ہوتاہے۔اس جگہ بھی امر کا صیغہ استعمال کرنے میں یہی حکمت مد نظر ہے یعنی بتایا گیاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور مہلت دے گا۔اور پھر اسے سزادے گا تاکہ دنیا بڑی دیر تک اس کی شان وشوکت دیکھنے کے بعد اس کی عبرتناک تباہی کودیکھے۔اور اس نشان کی اہمیت کی قائل ہو۔فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا کے معنے یہ ہیں کہ چاہیے کہ رحمٰن اس کو اور مہلت دے مگر مردایہ ہے کہ شان معجزہ اسی طرح ظاہر ہوتی ہے۔کہ خدائے رحمٰن ابھی اس کو اور ڈھیل دے۔گویا بظاہر تو اس قوم کے حالات کو دیکھ کر یہ کہنا چاہیے کہ خدا اس قوم کوغارت کرے۔خدا اس قوم کو تباہ اور برباد کرے۔مگر اس نشان کی عظمت اور اہمیت اتنی عظیم الشان ہے کہ بجائے یہ کہنے کے کہ خدااس قوم کو غارت کرے۔ایک عقلمنداور روحانی انسان یہ کہے گاکہ یہ قوم ابھی اور اونچی ہو۔کیونکہ یہ جتنی زیادہ اونچی ہوگی اتنا ہی اس کاگرنا زیادہ عظیم الشان ہوگا۔حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ یہاںتک کہ جب وہ دیکھیںگے وہ چیز جس کاان سے وعدہ کیا جارہاہے یا عذاب کا اور پھر ساعت کا اس کے یہ معنی نہیں کہ کسی شک کا اظہار کیا جارہا ہوکہ معلوم نہیں کیا چیز