تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 416
جس کے پاس ایک ہزارروپیہ ہے وہ زیادہ طاقتور ہے اور جس کے پاس ایک کروڑ روپیہ ہے وہ کم طاقتور ہے۔پس طاقتوں کامقابلہ ہمیشہ نسبتی طور پر ہوتاہے۔صرف یہی نہیں دیکھا جاتاکہ کسی کے پاس روپیہ کی کتنی مقدار ہے۔بلکہ یہ بھی دیکھا جاتاہے کہ اس کے دشمن کے پاس کتنا روپیہ ہے اور پھر نسبت کے مطابق فیصلہ کیا جاتاہے۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم تاریخ پر غور کرتے ہیں توہمیں معلوم ہوتاہے کہ جس زمانہ میںفرعون کو طاقت حاصل تھی اس زمانہ میں دنیا میں اور کوئی بادشاہ ایسا نہیںتھا جو فرعون کے مقابلہ میں کھڑا ہوسکتاجس زمانہ میں سکندر کو طاقت حاصل تھی اس زمانہ میں ساری دنیا میں کسی کو سکندر کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی جس زمانہ میں چنگیز خاں کو طاقت حاصل تھی اس زمانہ میں ساری دنیا میں اور کوئی طاقت ایسی نہیں تھی جوچنگیز خاں کا مقابلہ کرسکتی اس میں کوئی شبہ نہیںکہ جہاں تک نقدی اور سامانوں کاسوال ہے یا جہاں تک فوج کی تنظیم کاسوال ہے آج امریکہ یقیناً چنگیز اور سکندر اور نپولین سے ہزاروں گنازیادہ طاقتورہے مگر اس کے مقابلہ میں امریکہ کے دشمن کو جو طاقت حاصل ہے وہ بھی سکندر اور چنگیز اور نپولین کے دشمنوں سے ہزاروں گنا زیادہ ہے۔سکندر یونان سے اٹھا اور چار ہزار میل کا سفر کرکے ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور کوئی حکومت اس کا مقابلہ نہ کرسکی مگر یہیں امریکہ والے کو ریا میں ہی گئے توجان چھڑانی مشکل ہوگئی۔اس کے معنے یہ ہیں کہ آج چین اور روس کی طاقت بھی امریکہ کے برابر برابر ہوچکی ہے۔پس امریکہ آج سارے سازو سامان کے باوجود نسبتی طور پرسکندر سے کمزور ہے۔نسبتی طور پر وہ چنگیزسے بھی کمزور ہے۔کیونکہ چنگیز اور سکندر کا مد مقابل امریکہ کے مد مقابل سے بہت زیادہ کمزور تھا۔اسی طرح میداو رفارس کے بادشاہوں کو لے لو۔بخت نصر کو لے لو۔ہزاروں میل تک ان کامقابلہ کرنےوالا کوئی نہیں تھا جس طرف بھی یہ اپنی فوجوں کو بڑھادیتے تھے لوگ ان کے مقابلہ میں ہتھیار ڈالتے چلے جاتے تھے مگر اب امریکہ ذراقدم بڑھاتاہے توچین سامنے کھڑاہو جاتا ہے کچھ اور قدم بڑھاتا ہے توروس نکل آتاہے اورایک دوسرے کے مقابلہ میں ایساتوازن قائم رہتاہے کہ یوں معلوم ہوتاہے یہ برابر کی ٹکر ہیں یا اگر کچھ فرق بھی ہے تو دواورپونے دوکا۔لیکن پہلے زمانہ میںدواور پونے دو کافرق نہیں تھا۔بلکہ دواور 1/10 کا تھا۔پس بے شک ظاہری شان و شوکت ان میں زیادہ پائی جاتی ہے مگر نسبتی لحاظ سے یہ پہلوںکے مقابلہ میں کمزور ہیں سکند ر ساری دنیا میں نکل جاتاتو کوئی اس کے مقابلہ میں نہیں اٹھتاتھا اور اگر کوئی مقابلہ کےلئے کھڑاہوتا تو شکست کھاتا،مگر امریکہ میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے پس فرماتا ہے جب تم سے زیادہ شان وشوکت رکھنے والی حکومتیںہم نے تباہ کردیں ہیں جب تم زیادہ سازوسامان رکھنے والی قومیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں تو تم کس طرح یہ خیال کر سکتے ہوکہ تم تباہ نہیں ہوگے۔