تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 415

ہلاک کرچکے ہیں۔قرن کے معنے ایک صدی کے بھی ہوتے ہیں اور صدی کے قریب زمانہ یعنی اسی نوے سال کو بھی قرن کہہ دیتے ہیں۔اسی طرح ایک زمانہ یا ایک نسل کے لوگوں کو بھی قرن کہتے ہیں زمانہ کے دور کو بھی قرن کہتے ہیں اور ہر ایسی قوم جو تمام کی تمام ہلاک ہوگئی اور اس میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا اسے بھی قرن کہتے ہیں۔(اقرب) رِءْيًاکے معنے منظر یا اچھے منظر کے ہوتے ہیں۔فرماتا ہے اگر وہ غور کریں تو انہیں معلوم ہوگاکہ کتنے ہی قرن ایسے گذرے ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا۔یعنی دنیا میں اب تک کتنی ہی قومیں ایسی گذر چکی ہیں جوتمام کی تمام ہلاک ہوگئیں اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا۔حالانکہ ان کے پاس ان سے زیادہ اچھے سامان تھے اور ان کی مجلسوں میں ان سے زیادہ قیمتی سامان ہوا کرتے تھے۔گویا ان کی طاقت ان سے زیادہ تھی ان کی شوکت ان سے زیادہ تھی۔ان کا دبدبہ اور رعب ان سے زیادہ تھا مگر پھر بھی وہ ہلاک ہوگئیں۔جب ان سے زیادہ سامان اور زیادہ طاقت اور زیادہ شوکت رکھنے والی قومیںہلاک ہوچکی ہیں تو کم سے کم یہ لوگ یہ تونہیں کہہ سکتے کہ ہم ہلاک نہیںہوسکتے۔یہ الگ سوال ہے کہ انہوں نے ہلاک ہوناہے یا نہیں ہونامگر بہرحال ہلاک نہ ہوسکنے والی بات غلط ہوگئی۔کیونکہ ان سے زیادہ طاقتور اور شاندار قومیں اس سے پہلے ہلاک ہوچکی ہیں۔اس جگہ چونکہ عیسائیوں کا ذکر ہے اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ عیسائیوں سے زیادہ سامان رکھنے والے اور عیسائیوں سے زیادہ شان وشوکت کے مالک اور کون لوگ ہوئے ہیں ظاہر ہے کہ جو سامان ان کے پاس ہیں اورجو طاقتیں اور قوتیں ان کو حاصل ہیں۔نہ یہ سامان پہلی حکومتوں کے پاس تھے اور نہ ایسی طاقتیں اور قوتیں ان کو حاصل تھیں پھر وہ کون لوگ ہیں جنہیں زیادہ سازوسامان والااور زیادہ شان وشوکت رکھنے والا قراردیا گیاہے ؟ سو یادرکھنا چاہیے کہ طاقت اور قوت بھی ایک نسبتی امر ہے۔مثلا ًایک شخص ایساہے جس کے پاس ہزارروپیہ ہے اور اس کے مخالف کے پاس دوسوروپیہ ہے۔اور ایک او رشخص ایساہے جس کے پاس ایک کروڑ روپیہ ہے اور اس کے مخالف کے پاس ننانوے لاکھ ننانوے ہزار روپیہ ہے اب گواس کے پاس ہزارروپے والے سے بہت زیادہ روپیہ ہے مگر نسبتی طور پر یہ اس سے طاقت میں کمزور ہے۔کیونکہ جس دشمن سے ہزار رپے والے کامقابلہ ہے اس سے وہ پانچ گناطاقتورہے اور جس دشمن سے اس کا مقابلہ ہے اس سے صرف ایک ہزار روپیہ اس کے پاس زیادہ ہے۔پس گو اس کے پاس ایک کروڑ روپیہ ہے سو دوسرے کے پاس ایک ہزار مگر دشمن کی طاقت کو مد نظر رکھتے ہوئے نسبتی لحاظ سے