تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 37
دخانی کشتیاں تو اب بھی چلتی ہیں جو ایک ملک سے دوسرے ملک میں سودے لے جاتی ہیں لیکن پہلے زمانہ میں بادبانی کشتیوں کا رواج تھا جو ہوا کے زور پر چلتی تھیں۔فرماتا ہے کشتیوں کا انحصار ہی ہوا پر ہے لیکن کبھی ہوا طوفان بھی بن جاتی ہے جب وہ حد سے بڑھ جاتی ہے تو طوفان کہلاتی ہے لیکن باوجود اس کے کہ کبھی کبھی ہوا طوفان بن جاتی ہے۔جب دنیا میں ہوائوں سے کشتیاں چلا کرتی تھیں اگر دنیا سے کہا جاتا کہ ہوائیں بند کی جائیں یا طوفان بند کئے جائیں تو ساری دنیا پکار اٹھتی کہ طوفان کاکیا ہے یہ تو کبھی کبھی آتا ہے اگر ہوائیں بند ہو گئیں تو ہماری تجارتیں ماری جائیں گی اور ہماری روزی کا سارا سامان جاتا رہے گا۔اگر طوفان کے نتیجہ میں ہزاروں کشتیوں میں سے کوئی ایک ڈوب بھی جاتی ہے تو کیا ہوا یہ مثال بیان فرما کر اللہ تعالیٰ اس امر کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ تم گناہ گناہ کرتے ہو حالانکہ وہ تو ایک اعتداء کا نام ہے جس طرح وہی ہوا جو جہازوں کو ایک سر ے سے دوسرے سرے تک لے جاتی ہے بعض دفعہ طوفان بن جاتی ہے اسی طرح وہی قوتیں جو انسان کی ترقی اور اس کے فائدہ کے لئے اس کے اندر رکھی گئی ہیں جب بگڑ جاتی ہیں تو انہی کا نام گناہ بن جاتا ہے۔گویا گناہ ایک طوفان ہے جذبات کا۔مگر طوفان ہوا کے حد سے بڑھنے کا نام ہوتا ہے اس کے نیچے اس کی سب حرکت نیک ہوتی اور نیک نتائج پیدا کرتی ہے۔مثلاً انسان کو خدا تعالیٰ نے آنکھیں دیکھنے کے لئے دی ہیں جن سے وہ دن رات کام لیتا ہے ایک بدمعاش سے بدمعاش انسان کے بھی سارے دن کے اعمال کا جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ اس نے اپنی آنکھوں کا کتنا ناجائز استعمال کیا ہے تو پتہ لگے گا کہ دو سو دفعہ اس نے اپنی آنکھوں کا جائز استعمال کیا ہے اور ۲۰۰؍۱دفعہ ناجائز استعمال کیا ہے کہیں اس نے گھر کی صفائی کی ہوگی کہیں اس نے دوستوں سے ملاقات کی ہو گی۔کہیں اس نے محنت اور مزدوری کی ہوگی اور یہ سارے کام اس نے آنکھ سے کئے ہوں گے جو آنکھوں کا جائز استعمال ہے۔لیکن ایک دفعہ اس نے کسی غیر عورت کو بھی دیکھ لیا ہو گا۔اگر اس کی آنکھ ماری جاتی تو بیشک ناجائز فعل اس سے نہ ہوتا۔مگر جائز فعل بھی وہ نہ کر سکتا پس فرماتا ہے۔گناہ کی تعریف جو تم نے سمجھی ہے وہ غلط ہے۔تم گناہ کو اپنی ذات میں بری چیز سمجھتے ہو حالانکہ وہ قوتیں جو انسان کی ترقی اور اس کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں انہی میں افراط اور تفریط کا نام گناہ ہوجاتا ہے۔مثلاً اسراف صدقہ کی زیادتی کا نام ہے اور بخل مال کی حفاظت میں شدت پکڑنے کا نام ہے اور صدقہ اور حفاظت مال کے بغیر دنیا چل ہی نہیں سکتی۔اسی طرح زنا رجولیت کے بے موقعہ استعمال کا نام ہے اور رہبانیت اس کے عدم استعمال کا نام ہے اگر رجولیت کا استعمال نہ ہو تو دنیا کیونکر چلے اور اگر اس پر ضبط نہ رکھا جائے تو انسان کی صحت کس طرح قائم رہے۔غرض ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے گناہ کا فلسفہ بیان فرمایا ہے۔اور بتایا ہے کہ انسان کی پیدائش نیک ہے