تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 36

بیٹھنی شروع ہو جائے گی اور کبھی کوئی اور علامت ظاہر ہو جائے گی جس سے معلوم ہوگا کہ آتشک کا مادہ اس کے اندر تھا لیکن اگر یہ مرض باہر سے آئے۔مثلاً فرض کرو باپ کو آتشک نہیں تھی لیکن بچہ آگے آتشک والے مریض سے چھو گیا اور ایسی طرز پر چھوا کہ اسے آتشک ہو گئی تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ مرض اسے باپ سے ملی ہے بلکہ ہم کہیں گے کہ یہ مرض باہر سے آئی ہے۔اسی طرح قرآن کریم نے یہاں بگاڑ کے جتنے ذرائع بتائے ہیں وہ سب کے سب خارجی ہیں یہ نہیں کہا کہ چونکہ آدم ؑنے گناہ کیا تھا اس لئے انسان کو تم خراب کر لو گے بلکہ فرمایا کہ تم اسے لالچیں دو گے اس کے اندر ڈر اور خوف پیدا کرو گے۔اسے گانے بجانے کی طرف توجہ دلائو گے اور اس طرح تم اسے خراب کر دو گے گویا خرابی کے تمام اسباب خارجی ہوںگے اندرونی نہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات بیان فرمائی ہے جس میں صاف طور پر ان معنوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو میں نے مقطعات میں ک کے بیان کئے تھے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ جو میرے ساتھ تعلق رکھنے والے بندے ہیں ان پرتیرا قبضہ کبھی نہیں ہو سکتا اور نہ ان پر لالچ اورڈر اور خوف وغیرہ کا کوئی اثر ہو سکتا ہے۔وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا اور تیرا رب اپنے بندے کا وکیل یعنی نگران ہونے کے لحاظ سے کافی ہے جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کی پناہ میں آ جائے گا تو شیطان اس پر قبضہ نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ اپنا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے یہاں کَفٰی کا لفظ استعمال کر کے صاف پور ان معنوں کی طرف اشارہ کر دیا جو میں نے بیان کئے تھے میں نے بتایا تھا کہ ک اس جگہ کافی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس جگہ ظاہر کر دی اور کَفٰی کا لفظ استعمال کر کے بتا دیا کہ اس سورۃ میں خدا تعالیٰ کے کافی ہونے کا ذکر ہے جب کوئی شخص اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے تو پھر کارساز ہونے کے لحاظ سے خدا تعالیٰ اس کے لئے کافی ہوتا ہے اور شیطان اس پر قبضہ نہیں کر سکتا۔اگر ورثہ کے گناہ کی وجہ سے ہر انسان پیدائشی طور پر ناپاک ہوتا۔جیسے عیسائی کہتے ہیں تو ایسے لوگ خواہ تقویٰ اختیار کرتے۔خواہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دیتے ضرور تباہ ہو جاتے مگر ایسا نہیں ہوتا جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ گناہ بیرونی اثرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔فطرت اپنی ذات میں پاکیزہ ہے۔آگے اس کی دلیل دیتا ہے اور فرماتا ہے رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا تم گناہ کو ایک خطرناک طوفان سمجھتے ہو۔ایک ایسی آفت خیال کرتے ہو جو تباہ کر دینے والی ہوتی ہے اور تم گناہ کو دیکھ کر سمجھتے ہو کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس نے انسان کے اندر ڈیرہ ڈال لیا ہے اور اب یہ اس سے آزاد نہیں ہو سکتا۔مگر فرماتا ہے گناہ اپنی ذات میں کوئی چیز ہی نہیں یہ سارا وہم ہے اس کی موٹی مثال سمندر ہے تم دیکھتے ہو کہ سمندر میں کشتیاں چلتی ہیں