تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 38
بدی باہر سے آتی ہے اور یہ دعویٰ کہ انسان کی اکثریت گناہ میں مبتلا ہو گی ایک شیطانی خیال ہے۔(۲)دوسری آیت جو اس مضمون کو واضح کرتی ہے وہ یہ ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۔ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ۔اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ(التّین:۵ تا۷ ) فرماتا ہے ہم نے انسان کو بہتر سے بہتر قوتیں دے کر پیدا کیا ہے۔ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ مگر اس کے بعد ہم اس کو بعض دفعہ نیچے ہی نیچے لے جاتے ہیں۔یہاں ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ ٹھیک ہے میں بھی تو یہی کہتا ہوں کہ پہلے آدم آیا اور اس نے ترقی کی مگر اس کے گناہ کی وجہ سے نسل انسانی گر گئی۔اس شبہ کے ازالہ کے لئے فرمایا اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ میں سارے انسان نہیں جاتے بلکہ وہ حصہ جو اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ والا تھا وہ تو اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ پر قائم رہا۔صرف دوسرا حصہ جس نے اس راستہ کو چھوڑ دیا تھا وہ سزا میں مبتلا ہوا اور نبیوں کی جماعت سے الگ ہو گیا۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ نبیوں کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ہیں اور ان کی نیکی بھی کسبی ہے اور گناہ بھی کسبی ہے نہ نیکی ورثہ کی ہے نہ گناہ ورثہ کا ہے اور عیسائیوں سے ہماری بحث ہی یہی ہے کہ تم بتائو آیا نبیوں کی جماعتیں بھی کفارہ پر ایمان لائے بغیر بچ سکتی ہیںیا نہیں ؟ وہ کہتے ہیں نہیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ مومن اور عمل صالح کرنے والوں یعنی نبی کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے والے لوگوں کے لئے ایک غیر مقطوع اجر ہوگا۔پس یہ خیال کہ گناہ انسان کی پیدائش میں رکھا گیا ہے بالکل غلط ہے۔یہاں عیسائی اعتراض کر سکتے ہیں کہ ہمارا تو یہی دعویٰ ہے کہ انسان کی فطرت میںچونکہ بدی ہے وہ نیک عمل کر ہی نہیں سکتا اور اسی لئے ہم شریعت کو لعنت قرار دیتے ہیں۔اس کا جواب قرآن کریم مندرجہ ذیل آیت میں دیتا ہے۔فرماتا ہے۔وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۔فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا (الشّمس :۷ تا ۱۱) ہم شہادت کے طو رپر نفس انسانی کو اور اس کے اعلیٰ سے اعلیٰ قوتوں کے ساتھ پیدا کرنے کے واقعہ پیش کرتے ہیں۔سوّٰی کے معنے ہوتے ہیں جس میں کوئی کجی نہ ہو اور تسویہ کے معنے ہوتے ہیں برابر کر دینا جس میں نہ افراط ہو نہ تفریط۔وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا میں ما مصدر یہ ہے اور اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ ہم شہادت کے طو رپر پیش کرتے