تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 367
جگہ رہے اور اسحاق اور جگہ۔اس لئے عربی اور عبرانی میں فرق پیدا ہوگیا۔لیکن اس فرق کے باوجود کوئی لفظ نکال لو وہ عربی سے ضرور ملتاجلتاہوگا۔مجھے تو بہت ہی کم کوئی ایسا لفظ نظر آیا ہے جو عربی سے نہ ملتاہو حنوک کو ہی دیکھ لو۔عبرانی میں حنوک کہا جاتاہے اور عربی میں حنک کا لفظ موجود ہے یا مثلاًحضرت مسیح ؑ نے صلیب کے وقت کہا کہ ایلی ایلی لما سبقتانی۔یہ سبقتانی عربی کا سَبَقْتَنِیْ ہی ہے۔صرف عبرانی میں ت کو لمبا کردیا گیا ہے۔یا مثلا ً اسمٰعیل جو سمع اور ایل سے مرکب ہے اسے عبرانی میں یشمائیل کہتے ہیں(پیدائش باب ۶آیت ۱۵)۔پس عربی اور عبرانی دراصل ایک ہی زبانیں ہیں مگر سوال یہ نہیں کہ حقیقت کیاہے بلکہ سوال یہ ہے کہ عرب والے کیا سمجھتے ہیں۔عرب والے عبرانی کو غیر زبان سمجھتے ہیں اور عبرانی زبان والے عربی کو غیر زبان سمجھتے ہیں پس چونکہ وہ شخص جس نے حنوک کا عربوں کو نام بتایا اور جس نے ان کی آسانی کے لئے اس کا عربی میں ترجمہ کردیا وہ ایک ہبرو تھا۔اس لئے عربوں نے اس کو غیر منصرف بنالیا اور سمجھ لیا کہ یہ عَلَم عجمی ہے۔بہر حال جس وجہ سے اسے غیر منصرف بنایا گیا وہ یہی تھی ورنہ ادریس ایک عربی لفظ ہے جو دَرَسَ سے نکلا ہے ابن السکیت نے تو صرف چند مثالیں دی ہیں اور کہا ہے کہ یعقوب عقب سے اور اسرائیل اسرال سے نکلا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ عربی اور عبرانی کے سارے ہی الفاظ آپس میں ملتے ہیں درحقیقت عربی اور عبرانی دوبہنیں ہیںیا یوں کہو کہ عربی ماں ہے اور عبرانی بیٹی۔یوں تو سنسکرت وغیرہ بھی عربی زبان ہی کی بیٹی ہیں۔مگر وہ زبانیں ایسی ہیں جیسے پڑپوتی ہوتی ہیں۔اور عبرانی وہ زبان ہے جو عربی کے پیٹ میں سے نکلی ہوئی ہے۔پس چونکہ عبرانیوں نے حنوک کا ادریس کی شکل میں ترجمہ کرکے عربوں کو بتایا۔اس لئے عربوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ عَلَم بھی ہے اور عجمی بھی۔اصمعی قرطبی اور صاحب کشاف کا یہ کہنا کہ وہ لوگ جو ادریس کو عربی لفظ قرار دیتے ہیں جاہل ہیں ،یہ دراصل ان کی اپنی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یعقوب بھی عَقَبَ سے نکلا ہے۔اسماعیل بھی سَمَع اِیل سے نکلا ہے ادریس بھی دَرَسَ سے نکلا ہے یسوع بھی سَاعَ یَسُوْعُ سے نکلا ہے جس کے معنے ہلاکت اور زوال کے ہیں چونکہ حضرت مسیح کے لئے صلیب مقدر تھی اس لئے پہلے سے ہی آپ کا یہ نام رکھ دیا گیا اور بتادیا گیا کہ یہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوگا جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خدا تعالیٰ نے آپ کی والدہ اور داداسے محمد رکھوایا او رآپ کی کامیابی اور اعلیٰ درجہ کی زندگی کی طرف اس نام میں ہی اشارہ کردیا۔غرض یہ ساری غلطی عربی اور عبرانی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لگی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اس کو عجمی قراردیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ادریس کے کوئی معنے نہیں۔جیسے ان کے نزدیک اسمٰعیل کے بھی کوئی معنے نہیں۔اضحاق کے بھی کوئی معنے نہیں حالانکہ ادریس کے بھی معنے ہیں۔اسمٰعیل کے بھی معنے ہیں۔اضحاق کے بھی معنے ہیں اور اسرائیل کے بھی معنے