تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 366

نہیں سکتاپھر اس نے لطیفہ سنایا کہ مکہ میں ایک امیر عورت تھی جس کا ایک یمنی ملازم تھا۔یمن کے لوگ اکثر مکہ میں علم حاصل کرنے کے لئے آجاتے ہیں اور چونکہ ان کی معاش کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہوتا اس لئے وہ گھر وں میں ملازم ہوجاتے ہیں۔اسی وجہ سے مکہ میں یمنی نوکر بڑی کثرت کے ساتھ مل جاتے ہیں۔بہرحال وہ اس عور ت کے ہاں ملازم تھا۔وہ عورت حقہ پینے کی عادی تھی۔یوں بھی مکہ والے حقہ پینے کے بڑے شائق ہوتے ہیں وہ بڑے بڑے خوبصور ت حقے پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ سو سو روپیہ میں خرید تے ہیں اورحقہ کے نیچے جو پانی والا برتن ہوتاہے وہ بھی مٹی کانہیں بلکہ شیشے کا ہوتاہے۔ہمارا ملک چونکہ غریب ہے اس لئے یہاں لوگ معمولی حقہ پر گذارہ کر لیتے ہیں اور حقے کا برتن جس میںپانی ڈالا جاتاہے وہ بھی مٹی کا ہی ہوتاہے۔مگر ان کے بڑے بڑے نفیس حقے ہوتے ہیں۔شیشے کا برتن ہوتاہے جس میں سے پانی اُوپر کو اٹھتاہو انظر آتاہے اور لمبے لمبے پیچوان ہوتے ہیں جن میں پانچ پانچ چھ چھ گزکا چکر پڑا ہوا ہوتاہے۔ایک دن جبکہ اس عورت نے حقہ کا پانی بدلنا چاہا تو اس نے اپنے نوکر کو بلایا اور کہا غَیّر الشَّیْشَۃَ۔شیشہ کا پانی بدل دو۔لفظی لحاظ سے تو اس کے اتنے ہی معنے ہیں کہ شیشہ بدل دو۔مگر محاورہ میں ا س کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ شیشہ کا پانی بدل دو۔لیکن یمنی زبان میں غَیِّرِ الشَّیْشَۃَ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ شیشے کا برتن توڑ دو۔جب اس عورت نے نوکر سے کہا کہ غَیِّرِ الشَّیْشَۃَ تو وہ حیران ہوکر کہنے لگا کہ ستِّی ھٰذَا طَیَّبُ۔آقایہ تو بڑی اچھی چیز ہے۔سِتِّیْ ، سَیّدتی سے بگڑا ہواہے۔اسے غصہ آیا کہ میں کہہ رہی ہوں پانی بدل دے اور یہ کہتاہے کہ یہ تو بڑا اچھا ہے چنانچہ وہ اسے ناراض ہوئی کہ قُلْتُ لَکَ غَیِّرِ الشَّیْشَۃَ میں جو تجھ سے کہتی ہوں کہ شیشے کا پانی بدل دے پھر توکیوں نہیں بدلتا۔اس نے پھر ڈرتے ڈرتے کہا سِتِّی ھٰذَا طَیَّبُ۔بیگم صاحبہ ! یہ تو بڑا اچھا ہے اس پر عورت نے اسے ڈانٹ کر کہا کہ جب میں تمہیں بار بار ایک بات کہہ رہی ہوں تو تم کیوں نہیںمانتے۔اس پر اس نے شیشے کا برتن اٹھایا اور زور سے دیوار کے ساتھ مارکر اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔عورت نے شور مچادیا کہ کم بخت تونے یہ کیا کردیا۔اتنا قیمتی برتن تونے ضائع کردیاہے۔اس نے کہا میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ یہ برتن بڑا اچھاہے اسے ضائع مت کریں مگر آپ ماننے میں ہی نہیں آتی تھیں۔اب میں نے آپ کے حکم کو مان کر اسے توڑ دیا ہے تو آپ خفا ہورہی ہیں۔اس پر عورت اور زیادہ خفا ہوئی۔مگر آخر کسی یمنی زبان کے واقف نے اسے بتایاکہ اس میں نوکر کا کوئی قصور نہیں۔یمن میں تَغْیِر کے معنے تَکْسِیْر یعنی توڑ دینے کے ہی ہوتے ہیں۔تو زبان میں تھوڑے تھوڑے فاصلہ سے ہی بڑے بڑے تغیرات پیدا ہوجاتے ہیں۔عربی اور عبرانی میں بھی اسی وجہ سے فرق نظر آتاہے ورنہ اسماعیل اور اسحاق دونوں ابراہیم کی اولاد میں سے ہی تھے۔مگر چونکہ اسماعیل اور