تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 365
بات ہے کہ جب ایک عرب اس نام کو سنے گا تو وہ خیال کرےگا کہ یہ عَلَم بھی ہے اور عجمی بھی ہے کیونکہ اس کا بتانے والا عجمی ہوگا۔پس میرے نزدیک اس کو غیر منصرف اس لئے کہا گیا ہے کہ یہودیوں نے کسی زمانہ میں اسلام سے پہلے عربوں کو یہ بتانے کے لئے کہ حنوک کیا چیز ہے۔ایسے الفاظ میں جو اہل عرب کے لئے قریب اِلی الفہم تھے اس کا ترجمہ کرکے ادریس بتادیا۔جیسے اس شخص کو جو بڑے عزم اور ارادے والا ہو انگریزی میں ولیم (WILLIAM ) کہتے ہیں۔ولیم مجموعہ ہے WILL او رHELM کا اورWILL کے معنے ارادہ اور HELM کے ایک معنےHELMET کے ہیں اور HELMET کے معنے لوہے کی خود کے ہوتے ہیں۔پس ولیم کے معنے ہوئے زرہ جیسی یا خود جیسی نیت اور عزم رکھنے والا۔اس کا عربی میں ترجمہ کریں گے تو اولوالعزم کہہ دیں گے۔اب اگر کسی انگریز کے سامنے ہم اس کا ذکر کریں اور وہ ہم سے پوچھے کہ اولوالعزم کیا ہوتاہے؟ تو ہم کہیں گے ولیم۔گویا اس کو سمجھانے کے لئے ہم اسی کی زبان میں اس کا ترجمہ کردیں گے اور یہ طریق نہ صرف دنیا میںرائج ہے بلکہ خدا تعالیٰ بھی اسی طرح کرتاہے۔میں نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ میں انگلستان گیا ہوں اور ایک فاتح جرنیل کی طرح اس میں داخل ہوا ہوں اور میں اس وقت سمجھتاہوں کہ میں ولیم دی کنکررہوں (یہ رؤیا تفصیل کے ساتھ الفضل ۲۴جون ۱۹۲۴ ء میں چھپا ہوا ہے )چونکہ الہاموں میں میرا ایک نام اولوالعزم بھی آیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے مجھے اس کا ترجمہ کرکے دکھا دیا۔تو اصل حقیقت یہ ہے کہ عربوں کو حنوک کا ترجمہ کرکے ادریس بتایا گیا۔اور چونکہ ان کے سامنے اسے نام کے طور پر پیش کیا گیا۔اس لئے انہوں نے سمجھا کہ یہ عَلَم ہے۔اور چونکہ بتانے والا عجمی تھا انہوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ یہ عجمی ہے۔اصل میں عربی اور عبرانی دونوں ایک ہی زبانیں ہیں مگر رفتہ رفتہ عرب بھی اس بات کو بھول گئے اوریہودی بھی بھول گئے کہ عربی اور عبرانی تو ایک ہی چیز ہیں۔اس وجہ سے انہوں نے عبرانی کو بالکل غیر زبا ن سمجھ لیا۔یہودیوں کے نزدیک عربی غیر زبان تھی اور عربوں کے نزدیک عبرانی غیر زبان تھی۔حالانکہ عربی زبان اصل تھی اور عبرانی ایک قبیلہ کی زبان تھی باقی رہا عربی اور عبرانی کا اختلاف سو یہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ زبان ایک ہی ہوتی ہے مگر ایک علاقہ والا اور طرح بولتاہے اور دوسرے علاقہ والااور طرح بولتاہے۔میں جب حج کے لئے گیا تو سیٹھ ابوبکر صاحب کے ہاں جدہ میں ٹھہر ا۔اُن کا ایک یمنی نوکر تھا۔میں اس سے عربی زبان میں گفتگو کرتارہا اور میں نے دیکھا کہ وہ میری باتوں کو خوب سمجھتاتھا مگر کسی کسی بات پر وہ حیران ہو کر میرا منہ دیکھنے لگ جاتااور اسے پتہ نہ لگتاکہ میں نے کیاکہا ہے آخر میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ بات کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ یمنیوں اور حجازیوں کے بعض الفاظ میں بڑا بھاری فرق ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ وہ آپ کی بات کو سمجھ