تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 352
سپرد ہوسکتاتھا۔صدیقیت کا بھی سپرد ہوسکتاتھا مگر ہم نے اسے چنا او رپھر رسالت اور نبوت کے مقام پر فائز کردیا۔عام طور پر ہمارے مفسرین بھی یہی لکھتے ہیں اور ہمارے متکلمین بھی یہی لکھتے ہیں کہ رسول وہ ہوتاہے جو کتاب لاتاہے اورنبی وہ ہوتاہے جو کتاب نہیں لاتا۔لیکن وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لئے مامور ہوتاہے (فتح البیان)۔چنانچہ کوئی تفسیر اُٹھا کر دیکھ لو اس میں یہی لکھا ہوگا کہ رسول وہ ہوتاہے جو مامور ہو اور کتاب لائے۔اب اگر رسول کے یہی معنے ہیں تو نَبِیًّا کے کیا معنے ہوئے نبی ان کے نزدیک وہ ہوتاہے جو مامور ہومگر کتاب نہ لائے اب جو مامور ہو ا اور کتاب لایا وہ جب رسول ہوگیا تو نبی تو آپ ہی آپ ہوگیا پھر رَسُوْلًا کہنے کے بعد نَبِیًّا کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ ٹھیک ہے کہ ان کے نزدیک نبی ہونے کے بعد رسول ہونا ضروری نہیں مگر رسول ہونے کے ساتھ تو نبی ہونا ضروری ہے۔یہ نہیں ہوسکتاکہ ایک شخص مامور بھی ہو اور کتاب بھی لائے اور نبی نہ ہو مگر یہ ہوسکتا ہے کہ ہم ایک شخص کے متعلق لفظ نبی بولیں مگر اس کے پاس کتاب نہ ہو مگر قرآن نے رُسُوْلًا کو پہلے رکھا ہے اور نَبِیًّاکو پیچھے رکھا ہے۔اگر درجہ مراد ہوتاتو اللہ تعالیٰ کہتاکہ کَانَ نَبِیًّارَّسُوْلًا وہ نبی بھی تھا اورپھر ہم نے اسے کتاب بھی دی مگر وہ پہلے اسے رسول کہتاہے اور پھر نبی کہتاہے پس اگر رسول اور نبی کی وہی تعریف ہے جو عام مسلمان کرتے ہیں تو پھر اس کا مطلب کیا ہو ا۔یہ تو جاہل آدمی کا طریق ہے کہ وہ کہے کہ صاحب یہ چالیس سال کے ہیں اور یہ دس سال کے بھی تھے۔ہاں اگر کوئی کہنا چاہے تو یہ کہہ سکتاہے کہ ان کی عمر دس سال ہے اور مجھے خدا نے بتایا ہے کہ یہ چالیس سال کی عمر تک زندہ رہیں گے۔قرآن تو ایک حکیم اور علیم ہستی کا کلام ہے۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس کے کلام میں یہ بات آجائے کہ فلاں شخص رسول بھی ہے اور نبی بھی جبکہ رسالت میں ہی نبوت بھی شامل ہے کیونکہ یہ ہو نہیں سکتاکہ ایک شخص مامور ہو اور کتاب بھی لائے مگر وہ نبی نہ ہو۔پس معلوم ہوا کہ یہ معنے یہاں چسپاں نہیں ہوسکتے یہاں بہر حال کوئی اور معنے کرنے پڑیں گے اور وہ معنے وہی ہیں جو ہماری جماعت کیا کرتی ہے کہ رسول کے معنے ہوتے ہیں بھیجاہوا۔اور نبی کے معنے ہوتے ہیں خبر دینے والا۔اور یہ بالکل صحیح بات ہے کہ پہلے انسان رسول ہوگااور پھر نبی ہوگا پہلے خدا اسے بھیجے گا اور پھر وہ لوگوں کو خدا کی باتیں بتائے گا پس رسالت پہلا مقام ہے اور نبوت اس کے بعد کا۔کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتاجب تک وہ پہلے رسول نہ ہو مثلا ً جب خدا نے کہاکہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تجھے دنیا کی اصلاح کے لئے بھجواتاہوں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول بن گئے اورجب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ اے مکہ والو! میں تمہیں خدا کی طرف سے یہ خبر دیتاہوں تو وہ نبی بن گئے۔جب خدا نے یہ کہاکہ اے عیسیٰ میں تجھ کو بنی نوع انسان کی طرف بھیجتاہوں تو