تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 351
فرماتا ہے وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى توکتاب میں موسیٰ کو بھی یاد کر۔اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا وہ ہمارا ایک مخلص بندہ اور ہمارا رسول اور نبی تھا۔اَخْلَصَ کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کو خالص کرلینا اور تمام قسم کی ملونیوں اور خرابیوں سے بچالینا۔ایک ہوتاہے مُخْلِصٌ اور ایک ہوتاہے مُخْلَصٌ۔کہتے ہیں فلاں شخص بڑا مخِلص ہے مخلص وہ ہوتاہے جو اپنے تعلقات کے سلسلہ میں ہر قسم کی مداہنت اور نفاق کو اپنے دل سے دور کردے۔اور مخلَص وہ ہوتاہے جسے خدا تعالیٰ ہر قسم کے بد خیالوں ،وہموں اور قسم قسم کے شبہات او روساوس سے خود باہر نکال لے گویا مخلَص وہ ہوتاہے جسے خدا تعالیٰ محض اپنے لئے انسانوں میں سے منتخب کرلیتا ہے اور اسے ہر قسم کی گندگی سے پاک کردیتاہے۔یوں سمجھ لوکہ جیسے عورتیں آٹاپسوانے لگتی ہیں تو وہ آٹاپسوانے سے پہلے گندم کو صاف کرتی اور اس میں سے مٹی وغیرہ نکالتی ہیں یا جب گوشت پکانے لگتی ہیں تو اس کے چھیچھڑے وغیرہ دور کرتی ہیں اب جہاں تک گندم کا سوال ہے وہ ان کے گھر میں پہلے سے موجود ہوتی ہے گوشت بھی صبح سے آیا ہوا ہوتاہے۔مگر جب وہ کسی خاص مقصد کے لئے ان چیزوں کو استعمال کرنے لگتی ہیں۔تو ان کی صفائی کے لئے خاص توجہ سے کام لیتی ہیں۔گندم پڑی ہوئی ہوتی ہے لیکن جب پسوانے لگیں تو کنکر اور تنکے وغیرہ اس میں سے نکال دیتی ہیں یا جب آٹاپکانے لگتی ہیں تو اس وقت اسے چھانتی ہیں اسی طرح گوشت پہلے سے موجود ہوتاہے مگر جب گوشت پکانے کا وقت آئے تو اس وقت عورت اس کے چھیچھڑے وغیرہ دور کرتی ہے یا مثلا ًترکاری گھر میں پڑی ہوئی ہوتی ہے اور اس پرمٹی وغیرہ لگی ہوئی ہوتی ہے۔مگر جب ترکاری پکانے کا وقت آتاہے تو پھر عورتیں اسے پانی سے دھوتی اور چھیلتی ہیں اوراس کی مٹی وغیرہ دور کرتی ہیں تو مخلَص ہونے کا وقت وہ ہوتاہے جب کسی چیزکے استعمال کا وقت آجائے۔یوں اچھی چیز ہمیشہ اچھی ہی ہوتی ہے۔جو طیب ہے وہ طیب ہی ہوگی مگر اس کی پوری صفائی اس وقت کی جاتی ہے جب اس کے استعمال کا وقت آئے۔پس کان مُخْلَصًا میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے وقت میں پیدا ہوجب خدا نے اسے انسانوں میں سے الگ کرلیا اور اسے اچھی طرح پاک کرلیا تاکہ وہ کام جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے سپرد ہونے والا تھا اسے عمدگی کے ساتھ سرانجام دے سکے اس سے معلوم ہوا کہ نبی آپ ہی آپ اتفاقاً نہیں ہوجاتابلکہ الٰہی انتخاب سے ایک روح کو اس کے لئے الگ کیا جاتاہے گویا مخلَص کا لفظ دلالت کرتاہے کہ اللہ تعالیٰ کسی خدمت کے لئے اسے مامور کرناچاہتاتھا۔وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا پہلے مخلص بن گیا اور پھر کام کیا سپرد کیا ؟ کام صالحیت کا بھی سپرد ہوسکتاتھا۔شہادت کا بھی