تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 353

عیسیٰ رسو ل بن گئے اورجب عیسیٰ نے یہ کہا کہ اے لوگومیں تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام دیتاہوں تو وہ نبی بن گئے کیونکہ رسول کے معنے ہیں بات سننے والا اورنبی کے معنے ہیں بات بتانے والا۔پہلے وہ سنے گا تو پھر لوگوں کو کچھ بتائے گا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ سنے بعد میں اور پہنچائے پہلے۔اسی لئے قرآن کریم نے جہاں بھی بیان کیاہے رسول کا لفظ پہلے رکھا ہے اور نبی کا بعد میں سورئہ احزاب میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ(الاحزاب:۴۱) اسی طرح سورئہ اعراف میں فرماتا ہے اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِيْلِ(الاعراف:۱۵۸) پھر اسی سورئہ اعراف میں دوسری جگہ آتاہے فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(الاعراف:۱۵۹)۔غرض ہر جگہ رسول کا لفظ پہلے رکھا ہے اور نبی کا لفظ پیچھے آگے چل کر انہی آیات میں حضرت اسمٰعیل کے متعلق آتاہے کہ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا حالانکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق سب لوگ مانتے ہیں کہ انہیں کوئی کتاب نہیں ملی۔وہ اسی شریعت پر چلتے تھے جو حضرت ابرہیم علیہ السلام کی تھی اور حضرت ابراہیم ؑ پر ایمان لانے والے صرف اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ،لوط ؑ اور ان کے چند خادم ہی تھے۔اگر حضرت ابراہیم کے معاًبعد حضرت اسماعیلؑ کو الگ کتاب مل گئی تھی تو ان کی شریعت پر عمل کس نے کیا پس حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق جو یہ الفاظ آئے ہیں یہ بھی غیر احمدیوں کے خیالات کی تردید کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ رسول اور نبی ایک ہی چیز ہے کیونکہ رسول کے معنے MESSANGER کے ہوتے ہیں اور نبی کے معنے بہت خبریں دینے والے کے ہوتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ MESSANGER بنا کر بھیجے گا لازماًاسے کوئی پیغام بھی دے گا اور جو شخص لوگوں پر امور غیبیہ کو ظاہر کرے گا وہ لازماًخدا تعالیٰ کا بھیجا ہواہوگا۔پس درحقیقت ایک مامور من اللہ کا وہ نقطہ جو خدا سے ملتاہے اس کے لحاظ سے اسے رسول کہتے ہیں کیونکہ وہ خدا کا بھیجاہوا ہے لیکن اس کا وہ نقطہ جو بندوں سے ملتاہے اس کے لحاظ سے وہ خدا کا نبی کہلاتاہے یعنی ان کو خدا کی خبریں دیتاہے پس جو رسول ہو وہ نبی بھی ضرور ہوگا۔کیونکہ خدا تعالیٰ بغیر پیغام کے کسی کو نہیں بھیج سکتا۔اور جو نبی ہو وہ ضرور رسول بھی ہوگا کیونکہ اگر خدا نے اسے نہیں بھیجا تو وہ جھوٹاہوگا اور مامور من اللہ جھوٹے نہیں ہوتے۔