تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 350
ابراہیم ؑ بڑا اچھا تھا۔اسحاق ؑ بڑا اچھا تھا یعقوب ؑ بڑا اچھا تھا۔چنانچہ دیکھ لو مسلمان جب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام یا حضرت اسحاق علیہ السلام یا حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام لیتے ہیں تو ہمیشہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کہتے ہیں اسی طرح وہ ہر نماز کے آخر میں اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ پر اور اس کی اولاد پر بڑی سلامتی نازل کی تھی اور اس کو بہت برکت دی تھی گویا اس زمانہ میں یہ پیشگوئی صرف مسلمانوں کے ہاتھوں پوری ہورہی ہے۔غرض لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّاً کے دس معنے ہوگئے۔وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١ٞ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ اور تو قرآن کے مطابق موسیٰ کا بھی ذکر کر وہ ہمارا منتخب بندہ تھا رَسُوْلًا نَّبِيًّا۰۰۵۲ او رسول (اور) نبی تھا۔تفسیر۔حضرت اسحٰق ؑاور یعقوبؑ کے ذکر کے بعد اب اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرماتا ہے۔درحقیقت حضرت اسحٰق ؑ او ریعقوب ؑ کا ذکر صرف ضمناًکیا گیا تھا اصل مقصود حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر تھا جس کی طرف وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ کے الفاظ بھی اشارہ کرتے ہیں حضرت اسحاق اور یعقوبؑ کا ذکر عہد ابراہیمی کے صرف اس حصہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے کیا تھا جس کا تعلق بنو اسحاق کے ساتھ تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسوی سلسلہ کو لے لیا اور اس طرف اشارہ کیا کہ ابراہیمی نسل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ تھا اور جس کا ایک ظہور اسحاق اور اس کی اولاد کے ساتھ وابستہ تھا اس میں ایک خاص روحانی مقام کی طرف اشارہ کیا گیا تھا جو موسوی مقام ہے کیونکہ اس عہد کا ایک نشان جیسا کی بائبل میں ذکر آتاہے کنعان پر قبضہ قرار دیا گیا تھا (استثناء باب ۱ آیت ۵ تا ۹)اور یہ قبضہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ ہی تشریعی نبوت کی بنیاد بنی اسرائیل میں پڑی غرض عیسوی سلسلہ کے سمجھنے کے لئے پہلے ابراہیم ؑ کی طرف توجہ دلائی پھر اس طرف توجہ دلائی کہ ابراہیمؑ کی نسل میں سے اسحاق ؑ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے جووعدے تھے وہ پورے ہونے شروع ہوئے اور پھر انہی وعدوں کے سلسلہ میں موسیٰ آگئے اس مناسبت سے اللہ تعالیٰ ابراہیمؑ اور اسحاق ؑاور یعقوبؑ کے ذکر کے بعد موسیٰ ؑ کا ذکر فرمایا ہے۔