تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 349
اس صورت میں وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ سے یہ مراد ہوگا کہ(۳) ان کو ایسی باتیں ملیں جو ہمیشہ قائم رکھی جائیں گی۔اور اگر دوسرے معنے لیں یعنی لسان سے ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوبؑ کی زبان نہ ہو بلکہ دوسروں کی زبان ہو تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہمیشہ ہی (۴)ان کی تعریف کر نے والے لوگ دنیا میں موجود رہیں گے جو کہیں گے کہ ابراہیم ؑ بڑا اچھا تھا۔اسحاق بڑا اچھا تھا یعقوب بڑا اچھا تھا گویا خدا تعالیٰ ہمیشہ دنیا میں ایسے لوگ پیدا کرتارہے گا جو ان کے نیک ذکر کو قائم رکھیں گے اور ان کی پرحکمت اور اعلیٰ درجہ کی باتیں لوگوں میں پھیلاتے رہیں گے۔عَلِیًّالِسَانَ کی صفت ہے اور اس کے تین معنے ہیں اول اَلْمُرْتَفَعٌ یعنی بلند دوم الشَّرِیْفُ سوم الشَّدِیْدُ ان معنوں کے لحاظ سے وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا کے یہ معنے بن جائیں گے : اوّل (۵)ان کو بلند زبان ملی۔یعنی وہ بڑی اعلیٰ درجہ کی باتیںکرتے تھے نہایت پرحکمت،ہر قسم کے بُغض اور کینہ سے پاک ، دلوں میں نورایمان پیداکرنے والی اور اخلاق اور پاکیزگی کو ترقی دینے والی یا ان کو بلند تعریف ملی یعنی لوگ ان کی تعریف کرتے تھے تو (۶)وہ بڑی بلند تعریف ہوتی تھی۔جیسے امت محمد یہ کو بھی یہ دعا سکھائی گئی کہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ گویا زبان بھی ملی تو بلند ملی اور تعریف بھی ملی تو بلند ملی۔دوسرے معنوں کے لحاظ سے وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا کے یہ معنے ہوں گے کہ(۷) ان کو شریف زبان دی گئی یعنی ان کی زبان بڑی شستہ تھی ان کی باتوں میں گندنہیں تھا ان کی باتوں میں کینہ ،کپٹ اور بُغض نہیں تھا نہایت پاکیزہ اور شائستہ گفتگو کے وہ عادی تھے اور یا پھر اس کے یہ معنے ہوںگے کہ(۸) ہماری طرف سے ان کو شریف تعریف ملی یعنی لوگ ان کی تعریف کرتے تھے تو کہتے تھے کہ ان کے اخلاق نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں بڑے بزرگ اور مقدس انسان ہیں۔عَلِیًّا کے تیسرے معنے شدید کے ہیں اس لحاظ سے وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا کے یہ معنے ہوںگے کہ (۹)ہم نے ان کو شدید زبان دی یعنی ایسی زبان جو صداقت کے اظہار کے لئے بڑی دلیر تھی۔اگر کوئی مشرک یا خدا تعالیٰ کی ہتک کرنےوالا ان کے سامنے آتاتو وہ اسے صاف کہہ دیتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھ سکتے تمہارا راستہ الگ ہے اور ہمارا الگ۔اور یا پھر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہماری طرف سے ان کو شدید تعریف ملی یعنی ان کو ایسے تعریف کرنے والے لوگ ملے کہ اگر ان کی گردنوں پر چھریاں بھی رکھ دی جائیں تو وہ یہی کہیں گے کہ