تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 348

پہلی دفعہ نظر آئے تو اس وقت جو دعا بھی کی جائے وہ قبول ہوجاتی ہے اس وقت میں نے سوچنا شروع کیاکہ میں کون سی دعامانگوں۔آخر مجھے خیال آیا کہ اگر آج میں کوئی دعامانگوں اور وہ قبول بھی ہوجائے تو ممکن ہے کل مجھے کوئی اور ضرورت پیش آجائے اس لئے کیوں نہ کوئی ایسی دعاکروں جو اپنی ذات میں میری ساری ضرورتوں کوپورا کرنے والی ہو۔چنانچہ میں نے دعاکی کہ الٰہی جو بھی دعا میں تجھ سے مانگا کروں وہ قبول ہو جایا کرے میں نے بھی حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ کی اتباع میں خانہ کعبہ کو دیکھ کر یہی دعا کی تھی کہ الٰہی جو بھی دعامیں تجھ سے کروں اسے تو اپنے فضل سے قبول فرما لیا کر۔تو فرماتا ہے وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا ہم نے اپنی رحمت ہی ان کے حوالے کردی ہم نے کہا ایک ایک چیز کیا دینی ہے چلو ہم اپنی رحمت ہی تمہارے حوالے کرتے ہیںگویا انہیں عمر عیار کی زنبیل مل گئی کہ جس چیز کی ضرورت ہوئی ہاتھ ڈالا اور نکل آئی۔وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا صدق کی طرف جب کسی شئے کو اضافت دی جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں صَادِقٌ وَ مَرْضِیٌّ یعنی ایسی چیز جو اپنے مفہوم میں کامل اور پسندیدہ ہو مثلاً اگر کہا جائے کہ آم صادق ہے تو اس کے معنے یہ ہوںگے کہ آم کی جس قدر خصوصیات ہوتی ہیں وہ اس میں کامل طور پر پائی جاتی ہیں اور وہ نہایت ہی پسندیدہ اور مرغوب الطبع ہے یا اگر کہا جائے کہ خربوزہ صادق ہے تو اس کے معنے یہ ہوںگے کہ ایک اچھے خربوزہ میں جو لذت اور خوشبو اور ذائقہ پایا جانا چاہیے وہ اس میں کامل طور پر پایا جاتاہے اور اس کے کھانے سے لذت حاصل ہوتی ہے پس وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ کے یہ معنے ہوئے کہ (۱)ان کو وہ زبا ن ملی جو اپنی جگہ کامل اور پسندیدہ تھی یعنی خدا تعالیٰ نے ان کو ایسی توفیق دی کہ ان کی باتیں نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوا کرتی تھیں ان میں تلخی نہیں ہوتی تھی۔بغض اور کینہ کا اظہار نہیں ہوتا تھا اور پھر حکمت والا کلام ہوتاتھا ہر شخص جوان کی باتیں سنتاتھا کہتاتھا کہ یہ کیا ہی اچھی باتیں ہیں لیکن لسان کے معنے جس طرح ان کی اپنی زبان کے ہیں اسی طرح ان کے متعلق دوسرں کی زبان کے بھی ہوسکتے ہیں اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ(۲) ہم نے ان کو ایسی جماعتیں دیں یا ان کو ایسے افراد عطافرمائے جو ان کے متعلق ایسی باتیں کرتے تھے جو بڑی اچھی ہوتی تھیں بڑی پسندیدہ اور قابل تعریف ہوتی تھیں گویا خود ان کا کلام بھی بڑا اعلیٰ درجے کا تھا اور ان کو ایسے مطیع اور فرمانبردار لوگ بھی ملے جو ان کی سچی کامل اور پسندیدہ تعریفیں کرنے والے تھے۔پھر صدق کی طرف اضافت کسی چیز کے قائم رہنے پر بھی دلالت کرتی ہے یعنی صدق کی طرف جب کسی شئے کو اضافت دی جائے تو اس کے معنے دائمی کے بھی ہوتے ہیں۔