تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 347

ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب دیا وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا اور پھر ہم نے ان سب کو نبی بنادیا۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ کُلًّا کا لفظ دو پر بھی بولا جاسکتاہے چنانچہ بعض اور مقامات پر بھیکُلًّا کا لفظ استعمال ہواہے مگر مراد صرف دو ہی ہیں۔اس جگہ اسحاق ؑ اور یعقوبؑ کا ذکر ہے حضرت ابراہیم ؑ پہلے سے نبی ہوچکے تھے پس یہاں کُلًّا سے یہ دونبی مراد ہیں اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ۔وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں سے ایک (وافر ) حصہ عطافرمایا اور ہم نے ان کے لئے ہمیشہ قائم رہنے والا ااعلیٰ عَلِيًّاؒ۰۰۵۱ درجہ کا ذکر خیر مقرر فرمایا۔تفسیر۔قرآنی محاورہ میں رحمت سے دو چیزیں مراد ہوتی ہیں۔اول وہ چیزیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت عام کے نتیجہ میں ملتی ہیں۔مثلاً ایک شخص اللہ تعالیٰ کے حضور دعاکرتاہے کہ خدایا مجھے رحم کرکے بیٹا دیجئے اور اسے بیٹامل جاتاہے اب اسے رحم کی وجہ سے کیا ملا ؟ بیٹاملا۔یا ایک شخص دعاکرتاہے کہ خدایا تو اپنے رحم سے مجھے مقدمہ میں فتح دیجیئو اور اسے مقدمہ میں کامیابی ہوجاتی ہے اسے رحم کی وجہ سے کیا ملا ؟ اسے رحم کی وجہ سے مقدمہ میں کامیابی ملی۔یا ایک اور شخص دعاکرتاہے کہ خدایا رحم کرکے میری تنگی دور کیجیئے اور اس کی مالی تنگی دور ہوجاتی ہے تو اسے رحم کی وجہ سے کیاملا ؟ رزق کی کشائش ملی اور اس کی تنگی دور ہوئی۔یہ خدا تعالیٰ کی رحمت کا عام ظہور ہے۔اور یہ سلوک کافر کے ساتھ بھی ہوتاہے ، منافق کے ساتھ بھی ہوتاہے اور مومن کے ساتھ بھی ہوتاہے مگر بعض انعامات ایسے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور عام لوگ ان میں شریک نہیں ہو تے۔یہاں بھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص سلوک کا ذکر کرتاہے اورفرماتا ہے۔ہم نے ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوبؑ کے ساتھ عام سلوک نہیںکیا بلکہ اپنی رحمت ہی ان کے حوالے کردی یہاں موہوب چیز بیٹانہیں، موہوب چیز روپیہ نہیں موہوب چیز کوئی عہدہ اور رتبہ نہیں بلکہ خود رحمت ہے فرماتا ہےوَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا ہم نے اپنی رحمت ہی ان کے قبضہ میں دے دی او ر کہہ دیا جو بھی مانگو گے تمہیں مل جائےگا۔جیسے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں نے حج کیا اور مجھے پہلی دفعہ خانہ کعبہ نظر آیا تو مجھے یاد آیا کہ حدیثوں میں آتاہے کہ خانہ کعبہ جب