تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 343

سکتاتھا (مسلم کتاب الایمان باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ وکذا الھجرۃ والحج)لیکن اس ساری مخالفت کے باوجود جب طائف میں آپ پر پتھر پڑے توآپ نے غصہ میں دشمن سے یہ نہیں کہا کہ لَاَرْجُمَنَّكَ بلکہ اس وقت جب دشمن پتھر مار رہا تھا خدا تعالیٰ کا ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اس نے کہاخدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس قوم پر عذاب نازل کروں۔سامنے پہاڑی تھی فرشتہ نے اس پہاڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا خدا نے مجھے کہاہے کہ میں یہ پہاڑی ان پر الٹا دوں اور زلزلہ سے انہیں تباہ کردوں آپ نے فرمایا نہ ایساہرگز نہ کرنا اگر تم ان لوگوں کو تباہ کردوگے تو مجھ پر ایمان کون لائے گا۔پھر آپ نے دعاکی اور فرمایا اے میرے خدامیری قوم جانتی نہیں کہ میں کون ہوں اس لئے میراانکا ر کررہی ہے تو ان کی خطائوں کو معاف فرما اور ان کی غلطیوں سے درگذرکر (بخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احدکم اٰمین)۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس عقیدہ پر قائم تھے چونکہ ا س کی دلیل آپ کے پاس موجود تھی اس لئے آپ کواگر غصہ بھی آتاتھا تو اس کی بھی دلیل ہوتی تھی اور اگر درگذر فرماتے تھے تو اس کی بھی دلیل ہوتی تھی اسی طرح حضرت ابراہیم کے پاس چونکہ دلیل تھی ان کاغصہ بھی دلیل کے ماتحت تھا اور ابراہیم کے باپ کے پاس چونکہ دلیل نہیں تھی اس لئے اس کاغصہ بھی بے دلیل تھا۔آخر ابراہیم نے اسے کہا کیا تھا۔یہی کہا تھا کہ یہ باتیں اچھی نہیںبری ہیں۔آخر کسی بات کو بلا دلیل آپ کیوں مانتے ہیں۔جس چیز کو بھی مانیں اس پر ماننے سے پہلے جرح کریں ، تنقید کریں ، غور وفکر کریںاور پھر اسے قبول کریں۔یہ تو شرک ہے کہ انسان بغیر کسی دلیل کے دوسرے کی بات مان لے اس پر وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتاتھا کہ یہ کل کا بچہ مجھے آج سمجھانے لگاہے۔مگر اس کے طیش کی یہ حالت ہے کہ و ہ کہتاہے۔میں تجھے مارڈالوںگا میں تجھ پر پتھرائو کروں گامیں تجھ پر لعنتیں ڈالوں گا۔میں تجھے گالیاں دوں گا۔میں تجھے لوگوں میں بدنام کروں گا ،میں تجھ سے قطع تعلق کرلوں گا ، میں تجھے اپنے گھر سے نکال دوں گا۔مگر اس قدر طیش اور غضب کے باوجود وہ آج کل کے مولویوں سے پھر بھی اچھا تھا کیونکہ غصہ آیا تو ساتھ ہی یہ بھی خیال آگیا کہ یہ میرا بیٹاہے اور اسے کہا کہ اس وقت میری آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جا ایسانہ ہوکہ میں تجھے کوئی نقصان پہنچادوں لیکن پنجاب کی ۵۳ ؁ءوالی شورش میں مولویوں نے احمدیوں کو تلاش کر کر کے مارا ہے۔ابراہیم ؑ کا باپ مشرک تھا جس کے لئے خدا تعالیٰ نے دعاسے بھی منع کردیا۔مگر وہ کہتاہے مجھے غصہ آگیا ہے میرانفس اس وقت قابومیں نہیں تو تھوڑی دیر کے لئے میرے سامنے سے ہٹ جا۔لیکن اس فتنہ وفساد کے دنوں میں مولویوں نے لوگوں سے یہ کہا کہ احمدیوں کی عورتوں کو بے شک پکڑکرلے جائو تم پر کوئی گناہ نہیں۔