تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 344
غرض ابراہیم کے باپ نے تو غصہ کی حالت میں ذراسوچنے کی مہلت چاہی مگر بعض بڑے علماء نے ۵۳ ء میں سوچنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں سمجھی۔مَلِيًّا کے معنے عربی زبان میں لمبے زمانہ کے ہوتے ہیں مگر لمبے زمانہ سے مراد صدی دوصدی نہیں کیونکہ عربی کا محاورہ ہے کہتے ہیں مَرَّمَلِیٌّ مِنَ الَّیْلِ رات میں سے ایک مَلِیٌّ گذر گئی ہے (المنجد)۔گویا اگر بارہ گھنٹے کی رات ہو اور چھ سات گھنٹے گذرجائیں تو کہیں گے کہ ایک مَلِیٌّ گذرگئی ہے پس وَ اهْجُرْنِيْ مَلِيًّا کے یہ معنے نہیں کہ سالوں کے لئے مجھ سے جدا ہوجائو۔بلکہ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ دوچار گھنٹہ کے لئے میری آنکھوںسے پرے ہوجائو تاکہ میرا غصہ ٹھنڈا ہوجائے۔قَالَ سَلٰمٌ عَلَيْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيْ اس پرابراہیم نے ) کہا اچھا میری طرف سے تجھ پر ہمیشہ سلامتی کی دعاپہنچتی رہے (یعنی میں تجھ سے الگ حَفِيًّا۰۰۴۸ ہوجاتاہوں ) میں اپنے رب سے تیرے لئے ضرور مغفرت کی دعاکروں گا وہ مجھ پر بہت ہی مہربان ہے۔تفسیر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے باپ کی یہ حالت دیکھی تو انہوں نے کہا کہ آپ کو تو اس بات پر غصہ آیا ہوا ہے کہ میں آپ کے جھوٹے معبودوں کو کیوں نہیں مانتالیکن میں اس بات کو دیکھ کر بھی کہ آپ میرے سچے معبود کو نہیں مانتے آپ سے یہی کہتا ہوں کہ خدا آپ پر رحم کرے۔آپ مجھے اس لئے رجم کرنا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے جھوٹے معبودوں کو کیوں نہیں مانتا۔آپ مجھے اس لئے قتل کرنا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے جھوٹے معبودوں کو کیوں نہیں مانتاآپ مجھے اس لئے لوگوں میں بدنام کرنا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے جھوٹے معبودوں کو کیوں نہیں مانتاآپ مجھ پر اس لئے لعنتیں ڈالنا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے جھوٹے معبودوں کو کیوں نہیں مانتا آپ مجھے اس لئے گالیاں دینا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے جھوٹے معبودوں کو کیوں نہیں مانتا۔آپ مجھ سے اس لئے قطع تعلق کرنا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے جھوٹے معبودوں کو کیوں نہیں مانتاآپ مجھے اس لئے گھر سے نکال دینا چاہتے ہیں کہ میں آپ کے جھوٹے معبودوں کو کیوں نہیں مانتالیکن اے میرے باپ آپ میرے سچے معبود کو نہیں مانتے اور پھر بھی میں یہی کہتا ہوں کہ خدا آپ پر رحم کرے۔گناہ آپ نے کیا ہے لیکن میرا رب اب بھی معاف