تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 342
اپنے گھر سے نکال دوں۔مگر پھر میری باپ والی محبت جوش میں آجاتی ہے۔اس لئے میں تجھے کہتا ہوں کہ کچھ مدت کے لئے میرے سامنے سے ہٹ جا۔تاکہ میرا غصہ دورہوجائے۔ایسانہ ہوکہ میں کوئی حرکت کر بیٹھوں اور تجھے نقصان پہنچ جائے۔تفسیر۔اس سے پتہ لگتاہے کہ جب کوئی شخص غلطی سے یا اپنے ماں باپ کی سنی سنائی باتوں کی وجہ سے کوئی ایسی بات ماننے لگ جائے جو خلاف حقیقت ہوتی ہے تو اس کے انکا ر پربھی اسے غیرت آجاتی ہے لیکن جب انکار دلیل اور عقل کے ماتحت ہوتاہے۔تو غیرت بھی دلیل اور عقل کے ماتحت ہوتی ہے۔اور جب غصہ دلیل اور عقل کے ماتحت نہیں ہوتاتو سلوک بھی دلیل اور عقل کے ماتحت نہیں ہوتاچنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی آپ کے مخالف آتے اور کہتے تھے کہ ہم آپ کی بات نہیںمانتے خود ابوجہل آپ کا قریبی رشتہ دار تھا جو آپ کا شدید ترین دشمن تھااسی طرح آپ کے بعض دوست تھے جو آپ پر ایمان نہیں لائے حکیم بن حزام آپ کا ایک بڑا گہر ادوست تھا جو مشرک تھا اور بہت بعد میں ایمان لایا وہ آپ سے اتنی محبت رکھتاتھا کہ ایک دفعہ وہ تجارت کے لئے شام گیا تو اس نے ایک اعلیٰ درجے کا کوٹ دیکھا باوجود اس کے کہ وہ کا فر تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لے گئے تھے پھر بھی اس نے کہایہ کوٹ اتنا اچھا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کے جسم پر نہیں سج سکتا۔چنانچہ وہ کوٹ خرید کر مکہ میں لایا اور پھر مکہ سے تین سومیل کا سفر کرکے مدینہ پہنچا اور آپ کی خدمت میں اس نے وہ کوٹ پیش کیا اور کہا کہ مجھے یہ کوٹ اتنا پسند آیا تھا کہ میں نے سمجھا سوائے آپ کے اور کسی کو یہ سج نہیں سکتا۔چنانچہ اب میں یہ کوٹ آپ کی خدمت میںپیش کرنے کے لئے لایا ہوں آپ نے فرمایا اس کی کیا قیمت ہے ؟ اس نے کہا قیمت کیسی ! میں تو محض دوستی کی خاطر لایا ہوں آپ نے فرمایا تمہاری دوستی کی میرے دل میں قدر تو بہت ہے مگر میں نے عہد کیا ہوا ہے کہ میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کروںگا۔اب چاہو تو یہ واپس لے جائو اور چاہو تو قیمت لے لو۔اس کو صدمہ تو بہت ہوا مگر اس نے کہا میں اتنی دور سے یہ چیز آپ کے لئے خرید کر لایا تھا اور دوستی کے طور پر لایا تھا مگر آپ واپس کرتے ہیں میں یہ تو پسند نہیںکرتاکہ کوئی اور شخص اس کوٹ کو پہنے ، آپ قیمت ہی دینا چاہتے ہیں تو دے د یں چنانچہ اس نے قیمت لے لی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کوٹ رکھ لیا(مسند احمد بن حنبل مسند المکیین رقم الحدیث ۱۴۷۸۴)۔اب دیکھودشمن آپ کے بھی تھے بلکہ ایسے ایسے دشمن تھے کہ حضرت عمر وبن العاص کہتے ہیں میں جن دنوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف تھا ان دنوں میرے دل میں آپ کا اتنا بغض تھااور آپ سے مجھے اتنی شدید نفرت تھی کہ میں اس بغض اور نفرت کی وجہ سے آپ کی شکل تک نہیں دیکھ