تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 323

نہایت بڑھائوں گا تب ابرام منہ کے بل گرااور خدااس سے ہمکلام ہو کر بولا کہ دیکھ میں جو ہوں میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہوگا اور تیرا نام پھر ابرام نہ کہلایا جائے گا بلکہ تیرا نام ابراہام ہوگا۔کیونکہ میں نے تجھے بہت قوموں کاباپ ٹھہرایا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۷آیت ۱تا ۵) انسائیکلوپیڈیا ببلیکا میں لکھا ہے کہ ابراہام کے کوئی معنے نہیں۔صرف ضلع جگت کے طور پر ابرام کو ابراہام کہہ دیا گیاہے(زیر لفظ Abraham) ضلع جگت کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ایک لفظ سن کر اسی کے مشابہ کوئی اور لفظ اس سے نکال لیاجائے مثلاً تاش کا ایک پتہ اینٹ ہوتاہے اور ایک پتے کانام پان ہوتاہے۔فرض کر و دوشخص آپس میں تاش کھیل رہے ہیں اور ایک نے اینٹ کا پتہ پھینکا ہے دوسراکہتاہے ’’گلوری کھائیں گے ‘‘اور یہ کہہ کر وہ پان کا پتہ پھینک دیتاہے اس کو ضلع جُگت کہیں گے یعنی لفظ سے لفظ کی طرف اشارہ کرنا یعنی وہ پان کے پتہ کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اسی کے مشابہ ایک اور لفظ اس سے نکال لیتا ہے اور کہتاہے ’’گلوری کھائیں گے ‘‘ اسی طرح انسا ئیکلو پیڈیا ببلیکا والا لکھتاہے کہ ابرام سے ابراہام بھی ضلع جگت کے طور پر کردیا گیاہے پہلے ابرام نام تھا پھر کہہ دیا کہ اب چونکہ تو بڑا ہوگیاہے اس لئے تو ابرام نہیں بلکہ ابراہام ہوگا ورنہ اس کے معنے کوئی نہیں مگر یہ درست نہیں حقیقت یہ ہے کہ عربی اور عبرانی زبانیں آپس میں بہت حد تک ملتی ہیںصرف فرق یہ ہے کہ عبرانی زبان کئی سوسال تک بولی نہیں گئی اور بوجہ اس کے کہ وہ بولی نہیں گئی لوگ اس زبان کی باریکیاں بھول گئے ہیں لیکن عربی زبان ہمیشہ بولی جا تی رہی ہے اور اس وجہ سے عربی زبان کے الفاظ کی باریکیاں بھی سمجھ میں آجاتی ہیں اگر لوگ عبرانی کو نہ بھولتے تو انہیں معلوم ہوتاکہ عبرانی زبان عربی میں سے ہی نکلی ہوئی ہے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لوکہ عبرانی زبان عربی کی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے مثلا ً حضرت مسیح کایہ فقرہ کہ ایلی ایلی لما سبقتانی(متی باب ۲۷ آیت ۴۶)۔یہ عربی سے کتنا مشابہ ہے سَبَقْتَنِیْ عربی زبان کا لفظ ہے جسے عبرانی میں ذرالمبا کرکے سبقتانی بنادیا گیا ہے اور اٖیل بھی عربی زبان کا ہی لفظ ہے جو خدا کے لئے استعمال ہوتاہے اور لِمَا دراصل لِمَ ہے پس جبکہ عربی اور عبرانی آپس میں اتنی ملتی ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ آیا عربی زبان میں بھی اس کے کوئی معنے پائے جاتے ہیں یا نہیں۔اس نقطہ نگاہ سے جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ عربی زبان میں اَبْرَمَ کے معنے بات کو پکا کرنے کے ہوتے ہیں چنا نچہ اَبْرَمَ الْکَلَامَ کے معنے ہوتے ہیں اَحْکَمَہُ اس نے کلام کو خوب پکا کیا اور اَبْرَمَ عَلَیْہِ فِی الْجِدَالِ کے معنے ہوتے ہیں اَلَـحَّ قَاصِدًا اِفْحَامَہُ (اقرب) اس نے بات کو خوب پکا کیا اور نہایت عمدگی سے بحث کی جس میں اس نے غرض یہ رکھی کہ دوسراسمجھ جائے یعنی اس کا مقصد اسکا تِ خصم نہیں تھا بلکہ اسے سمجھانا مراد تھا پس ابرام کے معنے ہوئے ایسی عمدہ بات کرنے والا