تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 324
اور ایسی اچھی بحث کرنے والا جو دوسرے کو اپنا مافی الضمیر اچھی طرح سمجھادے اور اسے ساکت کردے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے انبیاء کے جو نام رکھے جاتے ہیں وہ ان کی آئندہ زندگی کے کاموں کی طرف اشارہ کرنے والے ہوتے ہیں بعض دفعہ ایسا بھی ہوتاہے کہ نام رکھنے والے مومن نہیں ہوتے جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اللہ تعالیٰ نے نہیں رکھا بلکہ آپ کے دادا نے رکھا اور آپ کی والدہ نے اس نام کو پسند کیا لیکن ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ نے تصرف کیا۔اور اس نے ان سے وہی نام رکھوایا جو پیشگوئیوں میں موجود تھا یہی حال دوسرے نبیوں کے ناموں کاہے۔مثلا ًاسحاق ضحک سے ہے اس میں یہ اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ بڑاہنسوڑ اور خوش مزاج ہوگا۔چنانچہ بائبل میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی تو ’’سارہ نے اپنے دل میں ہنس کر کہا کیا اس قدر عمر رسیدہ ہونے پر بھی میرے لئے شادمانی ہوسکتی ہے حالانکہ میرا خاوند بھی ضعیف ہے۔‘‘(پیدائش باب ۱۸آیت ۱۲) یہ واقعہ بتاتاہے کہ اس نام کا ہنسنے کے ساتھ تعلق ہے لیکن چونکہ بائبل کے لکھنے وا لے لغت کے واقف نہیں تھے انہوں نے اضحاک کی بجائے اضحاق لکھ دیا لیکن عربی میں وہی معرّب کر کے استعمال ہوگیا۔اسی طرح اسماعیل سَمِعَ سے ہے اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ خدا اس کی دعاکو سنے گا چنانچہ حضرت اسماعیل نے پیر مارے اور چشمہ پھوٹ پڑا اب بظاہر یہ ویسے ہی نام تھے جیسے اور لوگوں کے نام ہوتے ہیں مگر یہ وہ نام تھے جوالہاماًرکھے گئے اور خاص مقصد اور مدعا کے ماتحت رکھے گئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بے شک الہام سے نہیں رکھا گیا ماں باپ نے آپ کانام رکھا تھا مگر ان کی زبانوں پرخدا نے تصرف کیا او ر اس نے ان سے وہی نام رکھوایا جس کا پیشگوئیوں میں ذکر آتاتھا اسی طرح ابراہیم کاباپ یا چچابے شک مشرک تھا مگر جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام الٰہی تصرف کے ماتحت رکھا گیا اسی طرح خدا تعالیٰ نے ابراہیم کے باپ کی زبان پر بھی تصرف کیا اور اس نے وہی نام رکھا جو ان کی آئندہ زندگی کا ایک اجمالی نقشہ اپنے اندر رکھتاتھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق میں پیدا ہوئے تھے جو عرب کا ایک حصہ ہے اور وہاں عربی زبان ہی بولی جاتی تھی۔عبرانی تو عربی سے بگڑکر بنی ہے پس خدا نے آپ کانام آپ کے باپ سے ابرام رکھوایا جس میں یہ پیشگوئی مخفی تھی۔کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بڑی اچھی بحث کرنے کی توفیق دے گا اور صداقت کے اظہار کے لئے یہ اپنے مد قابل کے سامنے اس عمدگی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرے گا کہ وہ ساکت اور لاجواب ہوکر رہ جائے گا چنانچہ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جو واقعات بتائے گئے ہیں ان سے ابراہیم کی یہی صفت ظاہر ہوتی ہے۔ایک موقعہ پر آپ نے