تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 322
دووجوہ سے اختیا رکی گئی ہے۔اول یہ بتانے کے لئے کہ بانی سلسلہ موسویہ یا اسرائیلی شرک کا دشمن تھا۔پھر اس کی نسل کا ایک فرد شر ک کا قائم کرنے والا کس طرح ہو سکتا ہے۔دوم یہ بتانے کےلئے کہ ابراہیم ؑ نے دو بیٹوں کے متعلق خبر دی تھی ایک اسحاق کی جس میں سے موسیٰ نے سلسلہ کی بنیاد رکھی دوسرے اسماعیل کی موسوی سلسلہ کو کبھی ختم ہونا چاہیے تھاتاکہ اسماعیلی سلسلہ کے وعدے شروع ہوتے۔پس مسیح کی آمد سے جو بغیر باپ کے تھا اسرائیلی سلسلہ ختم ہوا تاکہ اسماعیلی سلسلہ شروع ہو اسی وجہ سے اس سورۃ میں پہلے زکریا کا ذکر کیا جو مسیح کے لئے بطور ارہاص آنے والے وجود کے والد تھے۔پھر حضرت یحییٰ کا ذکر کیا کیونکہ وہ مسیح کے لئے بطور ارہاص آئے تھے پھر مسیح کا ذکر کیا اور اس بات کے دلائل دئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی توحید کے قائل تھے اس کے بعد ابراہیم کا ذکر کیا اور بتایا کہ جب مسیحیت ایک شاخ ہے ابراہیمی سلسلہ کی تو تم سوچو کہ کیا یہ شرک کی تعلیم جڑمیں بھی پائی جاتی تھی یا نہیں جب ابراہیم جس کی تم ایک شاخ ہو موحد تھا تو اس کی نسل کا ایک فردشرک کو قائم کرنے والا کس طرح ہوگیا اس کے بعد اسحاق اور یعقوب اور موسیٰ کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ وعدے جو اسحاق کے ساتھ کئے گئے تھے پورے ہوگئے اور تمہارا سلسلہ ختم ہوگیا اب ہم تمہیں ان وعدوں کی طر ف توجہ دلاتے ہیں جو ابراہیم کے دوسرے بیٹے اسماعیل کے متعلق کئے گئے تھے اور تمہیں بتاتے ہیںکہ انہی وعدوں کے مطابق اسماعیل کی نسل میں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں پھر تمہیں ان پر کیا اعتراض ہے اگر اوپر کا مضمون مد نظر نہ ہوتا تو اس ترتیب کا کوئی مفہوم نہ تھا۔کیونکہ مسیح کے بعد ابراہیم نہ تھے اور موسیٰ کے بعد اسماعیل نہ تھے پس مسیح کے بعد ابراہیم پھر موسیٰ اور پھر اسماعیل کی طرف چلے جانا صاف بتاتاہے کہ اس جگہ وہی مضمون مراد ہے جو میں نے بیان کیا ہے دوسر اکوئی مضمون اس جگہ مراد نہیں انبیاء کی ترتیب کے بارہ میں یہ وہ علم ہے جوخد اتعالیٰ نے صر ف مجھے ہی عطافرمایا ہے چنانچہ تیرہ سو سال میں جس قدر تفاسیر لکھی گئی ہیں ان میں سے کسی تفسیر میں بھی یہ مضمون بیان نہیں کیا گیا اور کوئی نہیں بتا تا کہ نبیوں کا ذکر کرتے وقت یہ عجیب ترتیب کیوں اختیار کی گئی ہے صر ف مجھ پر خدا تعالیٰ نے اس نکتہ کو کھولا ہے جس سے اس ترتیب کی حکمت اور اہمیت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نام ابرام آتاہے اور لکھا ہے کہ ’’جب ابرام ننانوے برس کا ہو اتب خدا وند ابرام کو نظر آیا اور اس سے کہا کہ میں خدائے قادر ہوں تو میرے حضور میں چل اور کامل ہو او ر میں اپنے اور تیرے درمیان عہد کرتاہوں کہ میں تجھے