تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 299
یعنی خدا تمام انسانوں کا باپ ہے اور بندے اس کے بیٹے ہیں۔اسی طرح خروج باب ۴ آیت ۲۲ میں لکھا ہے ’’اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پلوٹھا ہے‘‘ غرض تمام بائبل کیا عہد نامۂ قدیم اور کیا عہد نامۂ جدید اس قسم کے حوالجات سے بھری پڑی ہے کہ تمام بنی نوع انسان خواہ وہ نیک ہوں یا بد۔خصوصاً نیک۔خصوصاً مسیح کے حواری یا بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کو اپنا باپ کہتے ہیں اور خدا انہیں اپنابیٹاکہتا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح ؑ بھی یہی تلقین فرماتے ہیں کہ تم اس محاورہ کو استعمال کیا کرو اور خدا تعالیٰ کو ’’اے ہمارے باپ‘‘ کہہ کر مخاطب کیا کرو۔پس اگر انجیل میں مسیح ؑ کے متعلق بھی کسی جگہ یہ الفاظ آ گئے ہیں کہ وہ خدا کا بیٹا ہے تو ہمیں اس کے وہی معنے کرنے پڑیں گے جو بائبل کے دوسرے مقامات سے ثابت ہیں۔اس کے خلاف ہمارے لئے کوئی اور معنے کرنے جائز نہیں ہوں گے۔اور نہ عیسائیوں کا حق ہے کہ وہ محض ان الفاظ کی وجہ سے انہیں خدا قرار دے دیں۔غرض خدا تعالیٰ فرماتا ہےمَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ۔خدا تعالیٰ کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا قرار دے ایک ہوتا ہے کسی کو بمنزلہ ولد قرار دینا یہ چیز بالکل الگ ہے۔اس کے معنے محض اتنے ہوتے ہیںکہ اس شخص کو خدا تعالیٰ نے اپنا پیارا قرار دیا ہے لیکن ولد کے یہ معنے ہیں کہ کسی کو خدا تعالیٰ کا حقیقی بیٹا کہا جائے۔اور حقیقی بیٹے کا درجہ خدا تعالیٰ کسی کو نہیں دیتا۔حقیقی بیٹا اپنے باپ کا وارث ہوتا ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کسی کو اپنا وارث بنا دے۔کیونکہ اس نے مرنا نہیں یا اپنی صفات اس کو دے دے۔بیٹا اپنے باپ سے ورثہ کے طور پر اس کے ہاتھ پائوں ناک کان منہ اور دوسرے تمام اعضاء لیتا ہے لیکن کوئی بندہ خدا تعالیٰ سے ورثہ میں اس کی صفات نہیں لے سکتا۔صفات الٰہیہ کا اپنے اندر پیداکر لینا اور چیز ہے اور ورثہ کے طور پر کسی چیز کا حاصل کرنا اور چیز ہے صفات الٰہیہ کو اپنے اندر پیدا کرنا کسب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جیسا کہ شاگرد اپنے استاد سے جو کچھ حاصل کرتا ہے کسب کے ذریعہ حاصل کرتا ہے یہ چیز خدا تعالیٰ کے متعلق بھی جائز ہے مگر بیٹا اپنے باپ سے کئی چیزیں ورثہ کے طور پر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے کوئی چیز ورثہ کے طور پر نہیں لی جاتی اس سے اگر کوئی شخص لے گا تو کسباً یا عطیۃ ً ہی لے گا۔مثلاً انگریزوں کا رنگ گورا ہوتا ہے۔ان کے ہاں جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوگا اس کا رنگ گورا ہو گا۔یہ نہیں ہو گا کہ بچہ پیدا ہونے کے کچھ عرصہ بعد وہ اپنے لڑکے کو بلائیں اور کہیں کہ آئو ہم تمہیں اپنے رنگ میں سے تھوڑا سا رنگ دے دیں۔اسی طرح حبشیوں کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا تو سیاہ رنگ کا ہی پیدا ہو گا۔یہ نہیں ہو گا کہ باپ اپنے بیٹے کو بلائے اور