تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 300
کہے کہ آئو میں تم کو اپنے بالوں میں سے کچھ بال دے دوں۔اپنے رنگ میں سے کچھ رنگ دے دوں یا تمہیں ناک، کان اور منہ وغیرہ دوں۔یہ سب چیزیں وہ ورثہ میں پیدائش کے ساتھ ہی لے کر آتا ہے اس رنگ میں نہ خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو سکتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں۔باقی رہا یہ کہ کسی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے محبت اور پیار کے طور پر یا اس سے اپنے تعلق کے اظہار کے لئے بیٹا کہہ دیا جائے تو اس میں مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔انجیل بتاتی ہے کہ سب لوگ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں یہاں تک کہ وہ گنہگاروں کو بھی اس کا بیٹا قرا ردیتی ہے۔(لوقا باب ۶ آیت ۳۵) اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جو قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ اللہ تعالیٰ کی شان کے یہ خلاف ہے کہ وہ کوئی بیٹا اختیار کرے کیا اس کی شہادت بھی بائبل سے ملتی ہے یا نہیںملتی۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم میں اس ہستی کا نام جو تمام صفات حسنہ سے متصف اور تمام دنیا کی خالق اور مالک ہے اللہ استعمال ہوا ہے جو خدا تعالیٰ کا اسم ذات ہے۔سوائے عربی زبان کے اور کسی زبان میں بھی خدا تعالیٰ کا اسم ذات نہیں۔بائبل میں یہوا کا لفظ اس رنگ میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ اسم ذات ہوتا ہے لیکن حقیقتاً یہوا اسم ذات نہیں۔اصل میں عربی اور عبرانی یہ دونوں زبانیں آپس میں بڑی حد تک ملتی جلتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے جو عرب کا ہی ایک حصہ ہے۔پھر آپ عراق سے ہجرت کرکے کنعان چلے گئے اور وہاں سے ان کی قوم آگے مصر کو نکل گئی مگر آپ کنعان میں ہی رہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب کنعان میں رہتے تھے تو ان کا ایک بیٹا جس کا نام اسماعیل تھا بچپن میں الٰہی حکمت کے ماتحت مکہ پہنچا دیا گیا۔ان کا دوسرا بیٹا اسحاق تھا جو ان کے ساتھ رہا۔اس وجہ سے ان کی زبانیں آپس میں ملتی جلتی تھیں اور عبرا نی اور عربی میں بہت معمولی فرق تھا۔یہوا کا لفظ بھی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کااسم ذات ہے اور جوبائبل میں استعمال ہوا ہے درحقیقت عربی زبان میں کا ہی ایک بگڑا ہوا لفظ ہے۔بہرحال بائبل میں خدا تعالیٰ کے متعلق یہوا کے لفظ کا استعمال پایا جاتا ہے چنانچہ یسعیاہ باب ۴۲ آیت ۸ میں لکھا ہے۔’’یہوا میں ہوں یہ میرا نام ہے اور اپنی شوکت دوسرے کو نہ دوں گا۔‘‘ یہ بالکل وہی مضمون ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ خدا تعالیٰ کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ کوئی بیٹا اختیار کرے اس جگہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’یہوا‘‘ میرا نام ہے اور میں اپنی شوکت کسی دوسرے کو نہ دوں گا۔یعنی کوئی اور وجود ایسا نہیں جو میری عظمت اور میری قدرت اور میری شوکت میں شریک ہو سکے۔