تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 298
متی باب ۱۰ آیت ۲۸ تا ۳۰ میں آتا ہے ’’جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور روح کو قتل نہیں کر سکتے ان سے نہ ڈرو بلکہ اسی سے ڈرو جو روح اور بدن دونوں کو جہنم میں ہلاک کر سکتا ہے۔کیا پیسے کی دو چڑیاں نہیں بکتیں اور ان میں سے ایک بھی تمہارے باپ کی مرضی بغیر زمین پر نہیں گر سکتی۔بلکہ تمہارے سر کے بال بھی سب گنے ہوئے ہیں پس ڈرو نہیں۔‘‘ پھر مرقس باب ۱۱ آیت ۲۶ میں لکھا ہے ’’اگر تم معاف نہ کرو گے تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے تمہارے قصور بھی معاف نہ کرے گا۔‘‘ اس جگہ سارے انسانوں کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا گیا ہے۔پھر لوقا باب ۶ آیت ۳۶ میں لکھاہے ’’جیسا تمہارا باپ رحیم ہے تم رحیم ہو۔‘‘ لوقا باب ۱۲ آیت ۳۰ میں لکھا ہے ’’تمہارا باپ جانتا ہے کہ تم ان کے محتاج ہو۔‘‘ لوقا باب ۱۲ آیت ۳۲ میں لکھا ہے ’’تمہارے باپ کو پسند آیا کہ بادشاہت تمہیں دے۔‘‘ پھر یوحنا باب ۸آیت ۴۱ میں لکھا ہے کہ یہود نے کہا ’’ ہمارا باپ ایک ہے یعنی خدا‘‘ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ یہودیوں میں یہ محاورہ رائج تھا۔کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہا کرتے تھے۔اسی طرح بائبل خود یہودیوں کو کہتی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے بیٹے ہو اور حضرت مسیح سب لوگوں کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم دعا کرو تو اس طرح کیا کرو کہ ’’اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے۔تیرے نام کی تقدیس ہو۔‘‘ اسی طرح ہم حواریوں کے خطوط کو دیکھتے ہیں تو ان میں بھی ہمیں یہی مضمون نظر آتا ہے۔چنانچہ افسیوں باب ۴ آیت ۶ میں لکھا ہے ’’ایک خدا جو سب کا باپ کہ سب کے اوپر اور سب کے درمیان اور تم سب میں ہے۔‘‘