تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 297

لوگوں پر روحانی موت نہیں آتی اور وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے کہلاتے ہیں گویا مسیح تمام نیک اور پاک لوگوں کے لئے ’’خدا تعالیٰ کے بیٹے‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔پھر یرمیاہ باب ۳۱ آیت ۹ میں خدا تعالیٰ حضرت یرمیاہ کو مخاطب کرکے کہتا ہے۔’’میں اسرائیل کا باپ ہوں اور افرائیم میرا پلوٹھاہے۔‘‘ اس حوالہ میں سارے بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ کا بیٹا کہاگیا ہے اور افرائیم جو بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ تھا اسے اپنا پلوٹھا قرار دیاگیا ہے۔پھر متی باب ۵ آیت ۱۶ میں لکھا ہے۔’’تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وے تمہارے نیک کاموں کو دیکھیں اور تمہارے باپ کی جوآسمان پر ہے ستائش کریں۔‘‘ اس میں حضرت مسیح نے اپنے سب مخاطبین کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے۔پھر متی باب ۶ آیت ۸ میںلکھا ہے ’’ تمہارا باپ تمہارے مانگنے کے پہلے جانتا ہے کہ تمہیں کن کن چیزوں کی ضرورت ہے‘‘ پھر حضرت مسیح ؑ نے اپنے متبعین کو جو دعا سکھلائی ہے اس میں بھی یہی کہا ہے کہ خدا باپ ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں جب تم دعا مانگو تو اس طرح مانگوکہ ’’ اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو۔‘‘ (انجیل متی باب ۶ آیت ۹) پھر متی باب ۶آیت ۴ ۱ میں ہے ’’ اگر تم آدمیوں کے گناہ بخشوگے تو تمہارا باپ بھی جو آسمان پر ہے تمہیں بھی بخشے گا‘‘ پھر متی باب ۶ آیت میں ۱۸میں ہے ’’تو آدمی پر نہیں بلکہ تیرے باپ پر جو پوشیدہ ہے روزہ دار ظاہر ہو اور تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے آشکارا تجھے بدلہ دے۔‘‘ اس سے پہلے آپ یہ مضمون بیان فرماتے ہیں کہ لوگ روزہ رکھتے ہیں تو لوگوں پر اپنے روزہ کا اظہار کرتے ہیں۔ایسے لوگ چونکہ ریاکاری سے کام لیتے ہیں۔اس لئے وہ کسی بدلہ کے مستحق نہیں لیکن اگر تم محض خدا کے لئے روزہ رکھو تو تمہارا باپ جو تمہارے دل کے حالات سے واقف ہے وہ تمہیں بدلہ دے گا۔