تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 294
حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓ نمازیںپڑھایاکرتے تھے۔ان کا لہجہ بڑا عمدہ تھا۔آواز بڑی بلند تھی اور ان کی تقریر میں بڑا جوش پایا جاتا تھا۔میں اگرچہ بچہ تھا مگر مجھے خوب یاد ہے جب وہ اس مضمون پر پہنچتے تو بڑے جوش سے کہا کرتے تھے کہ کیا چیز ہے جو عیسائی ہمارے مقابلہ میں پیش کر سکتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو بڑی بلند شان ہے۔آپ کا ایک نائب اس زمانہ میں احیاءِ اسلام کے لئے آیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بڑے اچھے خاندان میں سے ہے۔شاہی نسل میں سے ہے ہزاروں سال کی تاریخ اس کے خاندان کی عظمت کو ظاہر کررہی ہے۔اس کے مقابلہ میں میرے کانوں میں پہلے مسیح کی ابھی تک یہ آواز گونج رہی ہے کہ کسی نے چارپائیاں ٹھیک کروانی ہوں تو کروا لے کسی نے ٹوٹی ہوئی کرسیوں کی مرمت کروانی ہو تو کروا لے۔انجیل کے اس حوالہ میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔کہ لوگوں نے کہا کیا یہ مریم کا بیٹا بڑھئی نہیں۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ کیا یہ یوسف نجار کا بیٹا نہیں۔بلکہ کہا کہ کیا یہ مریم کا بیٹا بڑھئی نہیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ مسیح نے اپنے طور پر بھی بڑھئی کا کام کیا ہے۔مسیح بے شک انجیل میں اکثر جگہ اپنے آپ کو ابن آدم کہتا ہے لیکن ابن آدم ہونے میں تو تمام بنی نوع انسان اس کے شریک ہیں۔اس میں مسیح ؑ کی کوئی خصوصیت نہیں۔لیکن قرآن کریم ایک ایسا نام دیتا ہے جس سے مسیح ؑ کی آسانی کے ساتھ شناخت ہو سکتی ہے۔اگر قرآن کریم عیسیٰ ا بن آدم کہتا تب بھی مشکل پیش آتی۔کیونکہ ہزاروں لوگوں کے نام عیسیٰ ہیں اور وہ بھی ابن آدم ہی ہیں۔اگر خالی ابن آدم کہا جاتا تو اس لحاظ سے اور بھی دقت پیش آتی۔کیونکہ سارے انسان ابن آدم ہیں پھر وہ پہچانا کس طرح جاتا۔مسیحی اسے خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔لیکن یہ بھی ایسا لفظ ہے جو بائبل میں عام طورپر استعمال ہوتا ہے۔پس یہ بھی مسیح کی شناخت کا کوئی قطعی ذریعہ نہیں تھا۔کیونکہ بائبل کے رو سے سب نیک لوگ خدا کے بیٹے ہیں اور اگر وہ خدا کے بیٹے سے ظاہری بیٹا مراد لیں تو پھر خدا تعالیٰ کا ظاہری بیٹاہونے کے کوئی ظاہری ثبوت بھی ہونے چاہئیں جو نہیں ہیں۔درحقیقت حضرت مسیح کی صحیح شناخت اسی نام سے ہوتی ہے۔جو خدا نے اس کے لئے تجویز کیا ہے یعنی ’’ابن مریم‘‘۔اگر ہم اس کو صرف عیسیٰ کہیں تو ہر ضلع میںبیسیوں لوگ ایسے نکل آئیں گے جن کا نام عیسیٰ ہو گا۔ہماری جماعت میں بھی کئی ایسے لوگ موجود ہیں جن کا نام عیسیٰ ہے۔گو اب یہ نام کم رکھا جاتا ہے کیونکہ عیسیٰ کی نسبت محمدؐ اور احمدؐ کی محبت لوگوں کے دلوں میں زیادہ ہے اور وہ محمدؐ اور احمدؐ کے نام پرا پنے بچوں کے نام رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی ایسے کئی لوگ ہماری جماعت میں نکل آئیں گے جن کا نام عیسیٰ ہو گا اور پرانے غیر احمدیوں میں تو سینکڑوں لوگ اس نام