تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 295

کے موجود ہیں۔پس اگر صرف عیسیٰ کہا جاتا تو یہ حضرت مسیح کی شناخت کا کوئی یقینی ذریعہ نہیں تھا۔اگر عیسیٰ ابن آدم نام رکھا جاتاتب بھی مشکل پیش آتی کیونکہ ہر عیسیٰ آدم کا بیٹا ہے اس میں مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔اگر خدا کا بیٹا کہا جاتاتو سب لوگ کہتے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ان مشکلات کو دور کرتے ہوئے قرآن نے مسیح کو عیسیٰ بن مریم کہہ دیا جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔سب کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے اور مسیح کی شناخت کا ایک بڑا عمدہ ذریعہ ہے۔پس قابل اعتراض انجیلوں اور مسیحیوں کا قول ہے نہ کہ قرآن کا۔مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى خدا(تعالیٰ) کی شان کے یہ خلاف ہے کہ وہ کوئی بیٹا بنائے وہ اس بات سے پاک ہے۔وہ جب کبھی کسی بات کا فیصلہ اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُؕ۰۰۳۶ کرتا ہے تو کہتا ہے (ایسا) ہوتا جائے تو ویسا ہی ہونے لگتا ہے( پھر اسے مدد کے لئے بیٹا بنانے کی کیا ضرور ت ہے)۔حل لغات۔عربی زبان میں جب مَا کَانَ لَہُ کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیںتو اس سے دوسرے شخص کی قابلیت یا اس کی شان کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے چنانچہ مَاکَانَ لَہُ اَنْ یَفْعَلَ کَذَا کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ کہاں اس قابل ہوا کہ ایسا کرے یا اس کی شان اعلیٰ کے خلاف تھا کہ وہ ایسا کرتا۔گویا یا تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس کی شان اتنی اعلیٰ ہے کہ ایسا ادنیٰ کام اس کی طرف منسوب ہی نہیں ہو سکتا اور یا پھر یہ معنے ہوں گے کہ یہ کام اتنا اعلیٰ ہے کہ اس میں یہ قابلیت ہی نہیں کہ وہ اس کو سرانجام دے سکے۔تفسیر۔اوپر جو تشریح کی جا چکی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک معنے تو یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے یعنی یہ معنے کرنے کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی شان کہاں کہ اس کا بیٹا ہو۔یہ تو قطعی طور پر غلط ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔عورتیں تو کہہ دیتی ہیں کہ ہماری قسمت ایسی کہاں کہ ہمارے ہاں بیٹا پیدا ہو۔لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی ایسی شان کہاں کہ اس کے ہاں بیٹا ہو۔اس جگہ صرف دوسرے معنے ہی چسپاں ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی شان اس سے بہت بالا ہے کہ ایسی ذلیل اور ادنی بات اس کی طرف منسوب کی جائے اور کہا جائے کہ اس نے بیٹا بنا لیا ہے۔یہاں یَتَّخِذُ مِنْ وَّلَدٍ کہا گیا ہے۔یہ نہیں کہا گیا کہ اس کا بیٹا ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیوں میں اس بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بیٹا ہونا اور بیٹا بنا لینا یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔عیسائیوں میں