تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 293
ہیں کہ وہ صلیب پر لٹکایا گیا اور مر گیا۔عیسائی کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر لٹکایا گیا اور مرا لیکن پھر زندہ ہو گیا۔گویا دنیا کی چار بڑی جماعتیں صرف واقعہ صلیب کے بارہ میں ہی شدید اختلاف رکھتی ہیں۔غیر احمدی کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر لٹکائے ہی نہیں گئے۔ہم کہتے ہیں وہ لٹکائے توگئے مگر صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔یہودی کہتے ہیں وہ صلیب پر لٹکایا گیااور مر گیاعیسائی کہتے ہیں وہ صلیب پر لٹکایا گیا اور مر گیالیکن پھر زندہ ہو گیا۔غرض عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں میں مسیح ؑ کے متعلق بڑا بھاری اختلاف پایا جاتا ہے۔پھر آگے یہودیوں اور عیسائیوں کے مختلف فرقوں کا آپس میں اختلاف ہے۔اسی طرح مسیح ؑ کی پیدائش لے لو تو اس میں جھگڑا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کاملہ سے معجزانہ طور پر بغیرباپ کے پیدا کر دیا۔غیر مبایعین کہتے ہیں کہ وہ یوسف کے نطفہ سے تھے۔عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا کانطفہ تھا۔یہودی کہتے ہیں کہ وہ حرام کا نطفہ تھا۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ۔یہ بھی درحقیقت ایک چوٹ ہے جو عیسائیوں پر کی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کے وجود سے زیادہ سچی اوریقینی کوئی چیز نہیں۔مگر مسیح ؑ کے متعلق ایک بات بھی قطعی طور پر ثابت نہیں۔پس ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ کہہ کر چوٹ کی گئی ہے کہ عیسائی حضرت مسیح ؑ کو خدا بنائے پھرتے ہیں۔حالانکہ انہیں ان کی کسی بات کے متعلق بھی یقین حاصل نہیں۔آئو ہم تمہیں یقینی بات بتاتے ہیں کہ وہ کون تھا۔وہ ہمارا ایک رسول تھا جو دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا۔یہاں حضرت مسیح ؑ کو عیسیٰ بن مریم کہا گیا ہے۔عیسائی مصنف اس پر پھر چڑتے ہیں کہ ہمارے مسیح ؑکو ابن مریم کیوں کہا گیا ہے وہ تو خدا کا بیٹا تھا۔اسے ابن مریم محض ہمیں چڑانے اور دکھ دینے کے لئے اور دنیا پر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ خدا نہیں تھا کہا گیا ہے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ انجیل میں بھی حضرت مسیح کو ابن مریم کہا گیا ہے۔مرقس باب ۶ آیت ۳ میں آتا ہے:۔’’کیا یہ مریم کا بیٹا بڑھئی نہیں اور یعقوب اور یوسیس اور یہود اہ اور شمعون کا بھائی نہیں اور کیا اس کی بہنیں ہمارے پاس یہاں نہیں ہیں اور انہوں نے اس سے ٹھوکر کھائی۔‘‘ یعنی لوگوں نے جب مسیح ؑ کو دیکھا تو کہا کہ یہ جو بڑے بڑے دعوے کرتا پھرتا ہے کہ میرے ساتھ خدا تعالیٰ کے یوں وعدے ہیں اور اس طرح مجھے اس نے اپنے فضلوں اور انعامات کا مورد بنایا ہے کیا یہ وہی مریم کا بیٹا بڑھئی نہیں جو ہماری چارپائیاں اور میزیں درست کیا کرتا تھا اور آج ایسے دعوے کر رہاہے۔