تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 278

والا ہوں۔اسی طرح لوقا باب ۱۰ آیت ۹ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ؑ نے اپنے حواریوں سے کہاکہ جب تم تبلیغ کے لئے کسی شہر میں جائو تو’’وہاں کے بیماروں کو چنگا کرو اور ان سے کہو کہ خدا کی بادشاہت تمہارے نزدیک آئی۔‘‘ یعنی تم تسلی رکھو کہ تم جلدی فتح پالو گے اور کامیابی تمہیں حاصل ہو جائے گی۔غرض وہ ساری باتیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں انجیل میں بھی موجود ہیں۔پس عیسائیوں کا یہ کہنا کہ اپنی طرف سے باتیں بنا کر مسیح ؑ کے منہ میں ڈال دی گئی ہیں یا تو ان کے جھوٹ پر اور یا پھر ان کی اپنی کتب سے ناواقفیت پردلالت کرتا ہے۔وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ وَ يَوْمَ اُبْعَثُ اور جس دن میں پیدا ہوا تھا اس دن بھی مجھ پر سلامتی نازل ہوئی تھی اور جب میں مروں گا اور جب مجھے زندہ کرکے حَيًّا۰۰۳۴ اٹھایا جائے گا (اس وقت بھی مجھ پر سلامتی نازل کی جائے گی) تفسیر۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے یہی کہا ہے کہ وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا (مریم:۱۶) لیکن وہاں خود اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کے متعلق کہا ہے کہ جس دن وہ پیداہو گا اس دن بھی اس پر سلامتی ہو گی۔جس دن مرے گا اس دن بھی اس پر سلامتی ہو گی اور جس دن وہ دوبارہ زندہ کیاجائے گا اس دن بھی اس پر سلامتی ہو گی۔اور یہاں حضرت مسیح نے اپنی زبان سے کہا ہےکہ وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ وَ يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا اس آیت سے دو نہایت غلط استدلال کئے جاتے ہیں۔وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّسے تو یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے۔کہ حضرت مسیح کو شیطان نےنہیں چھوا اور وَ يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا سے یہ نتیجہ نکالاجاتا ہے کہ حضرت مسیح ؑکو صلیب پر نہیں لٹکایا گیا(فتح البیان زیر آیت والسلام علی)۔حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔اگر ا س سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے۔کہ حضرت مسیح ؑ کو شیطان نے نہیں چھوا تو یہی الفاظ حضرت یحییٰ کے متعلق بھی استعمال ہوئے ہیں ان کے متعلق یہ کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا کہ وہ مس شیطان سے پاک تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ الفاظ ان کی عصمت پر دلالت نہیں کرتے۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ پیدائش سے ہی