تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 279
اللہ تعالیٰ نے انہیں بابرکت بنایا ہے اور اس میں مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔موسیٰ ؑ اور دائود ؑ اور سلیمان ؑاور دوسرے ہزاروں ہزار انبیاء سب اپنی پیدائش کے وقت سے ہی بابرکت تھے۔اور يَوْمَ اَمُوْتُ سے جو یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسیح صلیب پر نہیں لٹکا یہ بھی درست نہیں۔کیونکہ صلیب پر لٹکنا سلامتی کے خلاف نہیں بلکہ صلیب پر لٹک کر مر جانا سلامتی کے خلاف ہے۔بائبل میں لکھا ہے کہ ’’جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے‘‘۔(استثناء ب ۲۱ آیت۲۳) پس يَوْمَ اَمُوْتُ کے یہ معنے ہیں کہ میری موت ایسی نہیں ہو گی جس کو لعنتی کہا جا سکے بلکہ میری موت خدا تعالیٰ کی رضاء میں ہو گی اور میرا رفع خدا تعالیٰ کی طرف ہو گا۔پس يَوْمَ اَمُوْتُ میں صلیب کی موت کی تو نفی پائی جاتی ہے مگر اس سے صلیب پر لٹکائے جانے کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔لیکن ا س سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکلتا کہ حضرت یحییٰ ؑ شہید نہیں ہوئے۔کیونکہ دشمن کے ہاتھوں سے خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونا سلامتی کے خلاف نہیں ہوتا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا پہلے یہی عقیدہ تھا کہ حضرت یحییٰ ؑشہید نہیں ہوئے مگر جب آپ کے سامنے کثرت کےساتھ حو الجات پیش کئے گئے جن سے حضرت یحییٰ کی شہادت ثابت ہوتی تھی تو آپ نے اپنے اس عقیدہ سے رجوع فرما لیا آپ بھی شروع میںحضرت یحییٰ کی شہادت کے خلاف یہی دلیل پیش کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرماتا ہے وَ السَّلٰمُ عَلَيْہِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ یَمُوْتُ وَ يَوْمَ یُبْعَثُ حَيًّا۔حالانکہ موت سلامتی کے خلاف نہیں ہوتی خواہ وہ طبعی موت ہو یا تلوار کے ذریعہ ہو۔اگر موت سلامتی کے خلاف ہوتی تب تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا تھا لیکن جب موت سلامتی کے خلاف ہی نہیں توچاہے کسی کو بخار نے مار دیا ہو یا تلوار نے مار دیا ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔لیکن صلیب پر لٹک کر مرنا یقیناً سلامتی کے خلاف ہے۔اور حضرت یحییٰ کی موت صلیب پر نہیں ہوئی اس لئے ان الفاظ سے ان کے قتل ہونے کا رد نہیں ہوتا۔لیکن يَوْمَ اَمُوْتُ سے حضرت مسیح کے صلیب پر لٹک کر مارے جانے کی ضرورنفی ہوتی ہے۔کیونکہ بائبل کے بیان کے مطابق وہ لعنتی موت تھی۔اس آیت سے بظاہر تو مسیح کی بڑی عظمت معلوم ہوتی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ظاہر ہو جاتی ہے کہ مسیح انسان تھا خدا نہیں تھا۔کیونکہوَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ دلالت کرتا ہے کہ سلامتی کہیں اور سے آئی ہے اور کسی پر نازل ہوئی ہے۔سلامتی دینے والا کوئی اَور وجود ہے اور جس پر سلامتی نازل ہوئی ہے وہ اَور وجود ہے۔خدا تعالیٰ کا ایک نام جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے اَلسَّلَامُ بھی ہے۔اب اگر ہم اس نام کی طرف منسوب کرتے ہوئے اپنے بچوں کا نام رکھیں گے تو عبدالسلام نام رکھیں گے یا کسی پر سلامتی پہنچانا چاہیں گے تو سَلَامٌ عَلَیْہِ یا