تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 277
نے دو شاگردوں کو یہ کہہ کربھیجا کہ اپنے سامنے کے گائوں میں جائو۔وہاں پہنچتے ہی ایک گدھی بندھی ہوئی اور اس کے ساتھ بچہ پائو گے انہیں کھو ل کر میرے پا س لے آئو۔اور اگر کوئی تم سے کچھ کہے تو کہنا کہ خدا وند کو ان کی ضرورت ہے۔‘‘ (انجیل متی باب ۲۱ آیت ۱ تا ۳) جبار کے ساتھ دوسرا لفظ شقی استعمال کیا گیا ہے شقی عربی زبان کا لفظ ہے جو سعادت کے مقابل میںاستعمال ہوتا ہے۔بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے معانی اپنی ذات میں بیان ہو سکتے ہیں لیکن بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے معنے صرف نسبت سے سمجھے جا سکتے ہیں۔عربی زبان میں شقی اور سعید بھی ایسے ہی الفاظ ہیں جن کے معانی نسبت سے سمجھے جاتے ہیں ورنہ یوں لغت میں دیکھو کہ سعید کے کیا معنے ہیں تو وہاں لکھا ہو گا اَلسَّعِیْدُ مَنْ لَّمْ یَکُنْ شَقِیًّا۔سعید وہ ہے جو شقی نہ ہو اور شقی کے معنے دیکھیں تو لکھا ہو گا الشَّقِیُّی مَنْ لَمْ یَکُنْ سَعِیْدًا۔شقی وہ ہے جو سعید نہ ہو۔پس یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے متضاد ہیں اور لغت دیکھنے والا حیران ہوتا ہے کہ میں ان کے معنے کہاں سے نکالوں۔مگر جب وہ لغت کی وضع کی طرف جاتا ہے تو اس پر اس لفظ کے معنے کھل جاتے ہیں۔درحقیقت سعید کے معنے ہوتے ہیں وہ شخص جو کسی دوسرے کی مدد سے اپنا مقصد حاصل کر لے۔اور یہ لفظ خدا تعالیٰ کے لئے نہیں بولا جاتا۔کیونکہ سعیدکے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اسے کوئی دوسری طاقت کا میاب کروائے اور شقی وہ ہوتا ہے جس کی مدد سے کوئی دوسری طاقت انکار کر دے۔پس شقی کے معنے ہوں گے جو شخص جائز مددگار اور جائز نصرت کرنے والے کی مدد سے محروم ہو اور اس کی تائید حاصل نہ کر سکے۔اس کے لئے دیکھو یوحنا باب ۱۶ آیت ۳۳ جہاں حضرت مسیح فرماتے ہیں۔’’میں نے تمہیں یہ باتیں کہیں تاکہ تم مجھ میں اطمینان پائو۔تم دنیا میںمصیبت اٹھائو گے لیکن خاطر جمع رکھو کہ میں نے دنیا کو جیتا ہے۔‘‘ یعنی تم پر مصیبتیں آئیں گی اور لوگ تمہیں کچلنا چاہیں گے لیکن تم یقین رکھو کہ آخر مجھے فتح حاصل ہو گی۔ہر نبی جو دنیا میں آیا اس نے لوگوں کے سامنے یہی دعویٰ کیا ہے کہ مجھے فتح حاصل ہو گی اور میرے مقابل میں کھڑے ہونے والے لوگ ناکام ہوں گے۔مگر تعجب ہے آج ہم پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تم نے یہ کیوںکہا کہ ہم فتح پائیں گے۔حالانکہ اگر کوئی جھوٹے طور پر دعوےٰ کرے تو وہ بھی یہی کہا کرتا ہے کہ میں فتح پائوں گا اور جس کو خدا تعالیٰ کہے کہ میں تجھے کامیاب کروں گا وہ اگر یہ نہ کہے کہ میں کامیاب ہوں گا تو اور کیا کہے۔مسیح بھی یہی کہتا ہے کہ ’’میں نے دنیا کو جیتا ہے۔‘‘ اس کے یہی معنے ہیں کہ لَمْ یَجْعَلْنِیْ شَقِیًّا۔میںشقی نہیں ہوں میں دنیا کو جیتنے