تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 264
ایک خدا گواہ ہے۔اگر وہ ایسا کہے تو سب ہنسنے لگ جائیں گے۔پس اس جگہ مسیح نے درحقیقت وہی دلیل پیش کی ہے کہ ؎ آفتاب آمد دلیل آفتاب وہ اپنے یسوع ہونے کی حیثیت کو پیش نہیں کرتا بلکہ دعویٰ نبوت سے پہلے کی زندگی کو متحد یا نہ طور پر پیش کرتا ہے۔مگر بہرحال اس سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ بندہ تھا۔رسول تھا۔خدائی کا دعویدار نہیں تھا۔پھر متی باب ۲۱ آیت ۹ میں لکھا ہے۔’’ اور بھیڑ جو اس کے آگے آگے جاتی اور پیچھے پیچھے چلی آتی تھی پکار پکار کر کہتی تھی ابن دائود کو ہوشعنا۔مبارک ہے وہ جو خدا کے نام سے آتا ہے عالم بالا پر ہو شعنا۔‘‘ یہ ایک پیشگوئی تھی جس میں مسیح ؑکی آمد کی خبر دی گئی تھی پس جب یہ پیشگوئی پوری ہوئی تو لوگ خوش ہوئے کہ وہ شخص جس کے آنے کی خبر دی گئی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آ گیا ہے۔بہرحال یہاں حضرت مسیح کو ابن دائود کہا گیا ہے گویا انہیں بنی اسرائیل کا ہی ایک فرد قرار دیا گیا ہے خدا نہیں کہا گیا۔پھرمرقس باب ۶ آیت ۲ تا ۵میں لکھا ہے کہ ’’ جب سبت کے دن مسیح عبادت خانہ میں تعلیم دینے لگا تو لوگ سن کر حیران ہوئے کہ یہ کیا حکمت ہے جو اسے بخشی گئی ہے۔کیا یہ وہی بڑھئی نہیں جو مریم کا بیٹا اور یعقوب اور یوسیس اور یہوداہ اور شمعون کا بھائی ہے اور کیا اس کی بہنیں یہاں ہمارے ہاں نہیں۔‘‘ یعنی اس کے بھائی اور بہنیں تو سب مذہب میں ہمارے ساتھ متفق ہیں اس کے ساتھ نہیں پھر یہ باتیں اسے کیسے آ گئیں۔ا س پر حضرت مسیح نے کہا۔’’نبی اپنے وطن اور اپنے رشتہ داروں اور اپنے گھر کے سوا اور کہیں بے عزت نہیں ہوتا۔‘‘ (مرقس باب ۶ آیت ۴) گویا وہ صاف طور پر اپنے آپ کو نبی کہتا ہے اور بتاتا ہے کہ نبی اپنے وطن اور اپنے رشتہ داروں اور اپنے گھر کے سوا اور کہیں بے عزت نہیںہوتا۔یوحنا باب ۴ آیت ۴۴ میںبھی یہی مضمون بیان ہوا ہے لکھا ہے کہ ’’ یسوع نے خود گواہی دی کہ نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا۔‘‘