تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 265

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ رشتہ دار اس کے ضرور مخالف تھے۔یوحنا باب ۵ آیت۳۶، ۳۷ میں حضرت مسیح فرماتے ہیں۔’’ باپ نے مجھے بھیجا ہے اور با پ جس نے مجھے بھیجا ہے اسی نے میری گواہی دی ہے۔‘‘ گویا ایک ہی آیت میں دو دفعہ انہوں نے اپنے آپ کو رسول کہا ہے۔پھر یوحنا باب ۴ آیت ۱۹ میں لکھا ہے ’’ عورت نے اس سے کہا اے خداوند مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تو نبی ہے۔‘‘ گویا لوگ بھی اس کو نبی کہتے تھے اور وہ بھی اپنے آپ کو نبی کہتے تھے مگر آج کل کے عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا تھے۔غرض عیسائیوں نے قرآن کریم کے اس بیان پر جو گالیاں دی ہیں۔وہ درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیں بلکہ اپنے مسیح کو گالیاں دی ہیں جس نے خود یہ دعوے کئے ہیں۔چوتھی بات قرآن کریم نے یہ بیان کی ہے کہ وَ جَعَلَنِيْ مُبٰرَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ یہ الفاظ بھی اس کے انسان ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔کیونکہ خدا اپنی ذات میں مبارک ہے اور انسان اس سے برکت حاصل کرتا ہے۔خدا مبارِک ہوتا ہے اور انسان مبارَک ہوتا ہے۔میرے ایک بچے کا نام مبارَک ہے۔کوئی غلطی سے اسے مبارِک کہہ دیتا ہے تو میں کہتا ہوں یہ مبارِک نہیں مبارَک ہے۔اسے برکت دی گئی ہے۔برکت دینے والا خدا ہے پس حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ مجھے خدا نے برکت دیا گیا بنایا ہے اور جو مبارَک ہے وہ یقیناً انسان ہے۔کیونکہ خدا کو کوئی برکت نہیں دے سکتا خدا تعالیٰ کے اندر ساری طاقتیں ذاتی ہیں وہ کسی سے کوئی طاقت نہیں لیتا۔پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسیح مبارک ہے وہ برکت نہیں دیتا بلکہ برکت مانگتا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ وہ ایک انسان تھا اس کے لئے دیکھو یوحنا باب ۸ آیت ۲۹ جہاں وہ کہتا ہے۔’’ اور جس نے مجھے بھیجا ہے میرے ساتھ ہے۔باپ نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا (گویا وہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ مدد کا محتاج ہے اور یہ بھی کہ خدا نے اس کی مدد کی ہے) کیونکہ میں ہمیشہ ایسے کام کرتا ہوں جو اسے خوش آتے ہیں۔‘‘ پھر مرقس باب ۶ آیت ۳۹ تا ۴۱ میں لکھا ہے۔’’ تب اس نے انہیں حکم کیا کہ ان سب کو ہری گھاس پر بانٹ بانٹ کر کے بٹھلائو وے سو سو اور